تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 270
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۰ سورة الشمس سے بڑا کہلاتا ہے اور بڑے درجہ کا پیدا کیا گیا ہے وہ کیوں کر ان خواص سے خالی اور بے نصیب ہوگا۔نہیں بلکہ اس میں بھی سورج کی طرح ایک علمی اور عقلی روشنی ہے جس کے ذریعہ سے وہ تمام دنیا کو منور کر سکتا ہے اور چاند کی طرح وہ حضرت اعلیٰ سے کشف اور الہام اور وحی کا نور پاتا ہے اور دوسروں تک جنہوں نے انسانی کمال ابھی تک حاصل نہیں کیا اس نور کو پہنچاتا ہے۔پھر کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نبوت باطل ہے اور تمام رسالتیں اور شریعتیں اور کتابیں انسان کی مکاری اور خود غرضی ہے۔یہ بھی دیکھتے ہو کہ کیوں کر دن کے روشن ہونے سے تمام راہیں روشن ہو جاتی ہیں۔تمام نشیب و فراز نظر آ جاتے ہیں۔سو کامل انسان روحانی روشنی کا دن ہے۔اس کے چڑھنے سے ہر ایک راہ نمایاں ہو جاتی ہے، وہ کچی راہ کو دکھلا دیتا ہے کہ کہاں اور کدھر ہے کیونکہ راستی اور سچائی کا وہی روز روشن ہے۔ایسا ہی یہ بھی مشاہدہ کر رہے ہو کہ رات کیسی تھکوں ماندوں کو جگہ دیتی ہے۔تمام دن کے شکستہ کوفتہ مزدور رات کے کنار عاطفت میں بخوشی سوتے ہیں اور محنتوں سے آرام پاتے ہیں اور رات ہر ایک کے لئے پردہ پوش بھی ہے۔ایسا ہی خدا کے کامل بندے دنیا کو آرام دینے کے لئے آتے ہیں۔خدا سے وحی اور الہام پانے والے تمام عقلمندوں کو جانکا ہی سے آرام دیتے ہیں۔ان کے طفیل سے بڑے بڑے معارف آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی خدا کی وحی انسانی عقل کی پردہ پوشی کرتی ہے جیسا کہ رات پردہ پوشی کرتی ہے۔اس کی ناپاک خطاؤں کو دنیا پر ظاہر ہونے نہیں دیتی۔کیونکہ منظمند وحی کی روشنی کو پا کر اندر ہی اندر اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیتے ہیں اور خدا کے پاک الہام کی برکت سے اپنے تئیں پردہ دری سے بچالیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افلاطون کی طرح اسلام کے کسی فلاسفر نے کسی بت پر مرغ کی قربانی نہ چڑھائی۔چونکہ افلاطون الہام کی روشنی سے بے نصیب تھا۔اس لئے دھوکا کھا گیا اور ایسا فلاسفر کہلا کر یہ مکروہ اور احمقانہ حرکت اس سے صادر ہوئی۔مگر اسلام کے حکماء کو ایسی ناپاک اور احمقانہ حرکتوں سے ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نے بچالیا۔اب دیکھو کیسا ثابت ہوا کہ الہام عقلمندوں کا رات کی طرح پردہ پوش ہے۔یہ بھی آپ لوگ جانتے ہیں کہ خدا کے کامل بندے آسمان کی طرح ہر ایک درماندہ کو اپنے سایہ میں لے لیتے ہیں۔خاص کر اس ذات پاک کے انبیاء اور الہام پانے والے عام طور پر آسمان کی طرح فیض کی بارشیں برساتے ہیں۔ایسا ہی زمین کی خاصیت بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ان کے نفس نفیس سے طرح طرح کے علوم عالیہ کے درخت نکلتے ہیں۔جن کے سایہ اور پھل اور پھول سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔سو یہ کھلا کھلا۔