تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 271

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة الشمس قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے اس چھپے ہوئے قانون کا ایک گواہ ہے۔جس کی گواہی کو قسموں کے پیرا یہ میں خدا تعالیٰ نے ان آیات میں پیش کیا ہے۔سود دیکھو کہ یہ کس قدر پر حکمت کلام ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔یہ اس کے منہ سے نکلا ہے جو ایک امی اور بیابان کا رہنے والا تھا۔اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو اس طرح عام عقلیں اور وہ تمام لوگ جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں اس کے اس دقیق نکتہ معرفت سے عاجز آ کر اعتراض کی صورت میں اس کو نہ دیکھتے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب ایک بات کو کسی پہلو سے بھی اپنی مختصر عقل کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا تب ایک حکمت کی بات کو جائے اعتراض ٹھہرا لیتا ہے اور اس کا اعتراض اس بات کا گواہ ہو جاتا ہے کہ وہ دقیقہ حکمت عام عقلوں سے برتر و اعلیٰ تھا۔تب ہی تو نظمندوں نے عقلمند کہلا کر پھر بھی اس پر اعتراض کر دیا۔مگر اب جو یہ راز کھل گیا تو اب اس کے بعد کوئی عقلمند اس پر اعتراض نہیں کرے گا بلکہ اس سے لذت اٹھائے گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۴ تا ۴۲۸) چونکہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے یہی چاہا کہ اس کی مخلوقات یعنی نباتات جمادات حیوانات یہاں تک کہ اجرام علوی میں بھی تفاوت مراتب پایا جائے اور بعض مفیض اور بعض مستفیض ہوں اس لئے اس نے نوع انسان میں بھی یہی قانون رکھا اور اسی لحاظ سے دو طبقہ کے انسان پیدا کئے۔اول وہ جو اعلیٰ استعداد کے لوگ ہیں جن کو آفتاب کی طرح بلا واسطہ ذاتی روشنی عطا کی گئی ہے۔دوسرے وہ جو درجہ دوم کے آدمی ہیں جو اس آفتاب کے واسطہ سے نور حاصل کرتے ہیں اور خود بخود حاصل نہیں کر سکتے۔ان دونوں طبقوں کے لئے آفتاب اور ماہتاب نہایت عمدہ نمونے ہیں جس کی طرف قرآن شریف میں ان لفظوں میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا وَالْقَمَر إذا تليها جیسا کہ اگر آفتاب نہ ہو تو ماہتاب کا وجود بھی ناممکن ہے۔اسی طرح اگر انبیاء علیہم السلام نہ ہوں جو نفوس کا ملہ ہیں تو اولیاء کا وجود بھی حیرز امکان سے خارج ہے اور یہ قانون قدرت ہے جو آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا ہے چونکہ خدا واحد ہے اس لئے اس نے اپنے کاموں میں بھی وحدت سے محبت کی اور کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ایک وجود سے ہزاروں کو وجود بخشا ر ہا۔سو انبیاء جو افراد کاملہ ہیں وہ اولیاء اور صلحاء کے روحانی باپ ٹھہرے جیسا کہ دوسرے لوگ ان کے جسمانی باپ ہوتے ہیں۔اور اسی انتظام سے خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں مخلوق پر ظاہر کیا تا اس کے کام وحدت سے باہر نہ جائیں اور انبیاء کو آپ ہدایت دے کر اپنی معرفت کا آپ موجب ہوا اور کسی نے اس پر یہ احسان نہیں کیا کہ اپنی عقل اور فہم سے اس کا پتہ لگا کر اس کو شہرت دی ہو بلکہ اس کا خود یہ احسان ہے کہ اس نے نبیوں کو بھیج کر آپ سوئی ہوئی خلقت