تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 269

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۹ سورة الشمس عذاب نازل ہوا۔اور خدا تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے بچوں اور بیواؤں کا کیا حال ہوگا۔سو ایسا ہی جو شخص اس اونٹنی یعنی نفس کو زخمی کرتا ہے اور اس کو کمال تک پہنچانا نہیں چاہتا اور پانی پینے سے روکتا ہے وہ بھی ہلاک ہوگا۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ خدا کا سورج اور چاند وغیرہ کی قسم کھانا ایک نہایت دقیق حکمت پر مشتمل ہے جس سے ہمارے اکثر مخالف ناواقف ہونے کی وجہ سے اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ خدا کو قسموں کی کیا ضرورت پڑی اور اس نے مخلوق کی کیوں قسمیں کھا ئیں۔لیکن چونکہ ان کی سمجھ زمینی ہے نہ آسمانی اس لئے وہ معارف حقہ کو سمجھ نہیں سکتے۔سو واضح ہو کہ قسم کھانے سے اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ قسم کھانے والا اپنے دعوے کے لئے ایک گواہی پیش کرنا چاہتا ہے کیونکہ جس کے دعوے پر اور کوئی گواہ نہیں ہوتا وہ بجائے گواہ کے خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے اس لئے کہ خدا عالم الغیب ہے اور ہر ایک مقدمہ میں وہ پہلا گواہ ہے۔گویا وہ خدا کی گواہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس قسم کے بعد خاموش رہا اور اس پر عذاب نازل نہ کیا تو گویا اس نے اس شخص کے بیان پر گواہوں کی طرح مہر لگا دی۔اس لئے مخلوق کو نہیں چاہئے کہ دوسری مخلوق کی قسم کھاوے۔کیونکہ مخلوق عالم الغیب نہیں اور نہ جھوٹی قسم پر سزادینے پر قادر ہے۔مگر خدا کی قسم ان آیات میں ان معنوں سے نہیں جیسا کہ مخلوق کی قسم میں مراد لی جاتی ہے بلکہ اس میں یہ سنت اللہ ہے کہ خدا کے دو قسم کے کام ہیں، ایک بدیہی جوسب کی سمجھ میں آسکتے ہیں اور ان میں کسی کو اختلاف نہیں اور دوسرے وہ کام جو نظری ہیں جن میں دنیا غلطیاں کھاتی ہے اور باہم اختلاف رکھتی ہے سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ بدیہی کاموں کی شہادت سے نظری کاموں کو لوگوں کی نظر میں ثابت کرے۔پس یہ تو ظاہر ہے کہ سورج اور چاند اور دن اور رات اور آسمان اور زمین میں وہ خواص درحقیقت پائے جاتے ہیں جن کو ہم ذکر کر چکے ہیں۔مگر جو اس قسم کے خواص انسان کے نفس ناطقہ میں موجود ہیں ان سے ہر ایک شخص آگاہ نہیں۔سوخدا نے اپنے بدیہی کاموں کو نظری کاموں کے کھولنے کے لئے بطور گواہ کے پیش کیا ہے۔گویا وہ فرماتا ہے کہ اگر تم ان خواص سے شک میں ہو جو نفس ناطقہ انسانی میں پائے جاتے ہیں تو چاند اور سورج وغیرہ میں غور کرو کہ ان میں بدیہی طور پر یہ خواص موجود ہیں اور تم جانتے ہو کہ انسان ایک عالم صغیر ہے جس کے نفس میں تمام عالم کا نقشہ اجمالی طور پر مرکوز ہے۔پھر جب کہ یہ ثابت ہے کہ عالم کبیر کے بڑے بڑے اجرام یہ خواص اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسی طرح پر مخلوقات کو فیض پہنچا رہے ہیں تو انسان جو ان سب