تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 263
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة الشمس اور آبپاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشاورزی کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیریں ولذیذ اور اپنی کمیت و کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالیٰ کی پاک قدرت یاد آ کر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے سو یہ آیت وَ نَفْس وَمَا سَوبھا۔صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسان کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون وصفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے یعنی بطور قسموں کے ان کا ذکر کیا بعد اس کے انسان کامل کے نفس کا ذکر فرمایا تا معلوم ہو کہ انسان کامل کا نفس ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے جو پہلی چیزوں میں جن کی قسمیں کھائی گئیں الگ الگ طور پر پائی جاتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے ان اپنی مخلوق چیزوں کی جو اس کے وجود کے مقابل پر بے بنیاد و بیچ ہیں کیوں قسمیں کھا ئیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت وسنت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بنین اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتا کہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے اور چاند موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے اور روز روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظر کے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اُس کے وجود میں ہی صد ہا جھگڑے بر پا ہو رہے ہیں۔بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ نفس یعنی روح انسان بھی کوئی مستقل اور قائم بالذات چیز ہے جو بدن کی مفارقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے اور جو بعض لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقا اور ثبات کے قائل ہیں وہ بھی اُس کی باطنی استعدادات کا وہ قدر نہیں کرتے جو کرنا چاہیے تھا بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ