تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 264

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة الشمس حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظ نفسانی میں عمر بسر کریں وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں کہ نفس انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور قوتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور اگر وہ کسب کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات و فضائل و انواع پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتا ہے۔سو اللہ جل شانہ نے اس سورہ مبارکہ میں نفس انسان اور پھر اس کے بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا ہے پس اول اس نے خیالات کو رجوع دلانے کے لئے شمس اور قمر وغیرہ چیزوں کے متفرق خواص بیان کر کے پھر نفس انسان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ جامع ان تمام کمالات متفرقہ کا ہے اور جس حالت میں نفس انسان میں ایسے اعلیٰ درجہ کے کمالات و خاصیات یہ تمامہا موجود ہیں جو اجرام سماویہ اور ارضیہ میں متفرق طور پر پائے جاتے ہیں تو کمال درجہ کی نادانی ہوگی کہ ایسے عظیم الشان اور ستجمع کمالات متفرقہ کی نسبت یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے یعنی جب کہ یہ تمام خواص جوان مشهود ومحسوس چیزوں میں ہیں جن کا مستقل وجود ماننے میں تمہیں کچھ کلام نہیں یہاں تک کہ ایک اندھا بھی دھوپ کا احساس کر کے آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔نفس انسان میں سب کے سب یکجائی طور پر موجود ہیں تو نفس کے مستقل اور قائم بالذات وجود میں تمہیں کیا کلام باقی ہے کیا ممکن ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں وہ تمام موجود بالذات چیزوں کے خواص جمع رکھتی ہو اور اس جگہ قسم کھانے کی طرز کو اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے پسند کیا ہے کہ قسم قائم مقام شہادت کے ہوتی ہے۔اسی وجہ سے حکام مجازی بھی جب دوسرے گواہ موجود نہ ہوں تو قسم پر انحصار کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ کی قسم سے وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو کم سے کم دو گواہوں سے اٹھا سکتے ہیں سوچونکہ عقلاً وعرفا وقانونا وشر عاقسم شاہد کے قائم مقام کبھی جاتی ہے لہذا اسی بنا پر خدائے تعالیٰ نے اس جگہ شاہد کے طور پر اس کو قرار دے دیا ہے پس خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا ہے کہ قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی در حقیقت اپنے مرادی معنے یہ رکھتا ہے کہ سورج اور اس کی دھوپ یہ دونوں نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے کے شاہد حال ہیں کیونکہ سورج میں جو جو خواص گرمی اور روشنی وغیرہ پائے جاتے ہیں یہی خواص معہ شے زائد انسان کے نفس میں بھی موجود ہیں۔مکاشفات کی روشنی اور توجہ کی گرمی جو نفوس کا ملہ میں پائی جاتی ہے اس کے عجائبات سورج کی گرمی اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں سو جب کہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اس کا ہم مثل اور ہم پلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یعنی نفس انسان وہ کیوں کر موجود بالذات نہ ہو گا۔اسی طرح خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند