تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 262
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۲ سورة الشمس نور سے بطور استفادہ اپنے اندر بھی نور لے سکتا ہے اور اُس میں روز روشن کے بھی خواص موجود ہیں کہ جیسے محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں کما حقہ اپنے کاروبار کو انجام دے سکتے ہیں ایسا ہی حق کے طالب اور سلوک کی راہوں کو اختیار کرنے والے انسان کامل کے نمونہ پر چل کر بہت آسانی اور صفائی سے اپنی مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں سو وہ دن کی طرح اپنے تئیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے۔اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور تجمل کے جو اُس کو منجانب اللہ حاصل ہے یہ حکمت و مصلحت الہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتا ہے یعنی جو جو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا سونا اور بیوی کے حقوق ادا کرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجالاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہ اس وجہ سے کہ خود خداوند علیم و حکیم اس کو اس طرف توجہ بخشتا ہے تا روحانی تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے چشم شہباز کاردانانِ شکار از بهر کشادن ست گردوخته اند سواسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم و غم کے نعلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں تو پھر جسم نا تواں ان کا روح کی رفاقت کے لئے از سر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی مجو بیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتا ہے اور ماسوا اس سے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پر نہیں ہو سکتا ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور باوجود ہزار ہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھر بھی ماعرفناك کا نعرہ مارتا ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستاروں سے پر ہے ایسا ہی نہایت روشن قومی اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے یعنی جیسا کہ عمدہ اور اول درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اُس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی