تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 254
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة الفجر رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتی یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام پا گیا ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔تو خدا سے راضی ہے اور خدا تجھ پر راضی ہے۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر داخل ہو جا۔غرض یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ جب انسان خدا سے پوری تسلی پالیتا ہے اور اس کو کسی قسم کا اضطراب باقی نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا۔نفس لوامہ والا تو ابھی بہت خطرے کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ اندیشہ ہوتا ہے کہ لوٹ کر وہ کہیں پھر نفس امارہ نہ بن جاوے لیکن نفس مطمئنہ کا وہ مرتبہ ہے کہ جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے۔غرض یا درکھنا چاہیے کہ جب تک انسان اس مقام تک نہیں پہنچتا اس وقت تک وہ خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے۔اس لئے چاہیے کہ جب تک انسان اس مرتبہ کو حاصل نہ کر لے مجاہدے اور ریاضات میں لگار ہے۔احکام جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ ؍ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲) وَإِنَّا لَا نَقُولُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ بَعْدَ ہم اس بات کے قائل نہیں کہ جنتی لوگ اس جہان سے انْتِقَالِهِمْ إِلى دَارِ الْآخِرَةِ يُخبَسُونَ في دوسرے جہان میں منتقل ہونے کے بعد قیامت تک کے مَكَانٍ بَعِيدٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلى يَوْمِ لئے جنت سے دور ایک مکان میں روک دیئے جائیں گے الْقِيَامَةِ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَبْلَ اور قیامت سے قبل سوائے شہداء کے کوئی شخص جنت میں الْقِيَامَةِ إِلَّا الشُّهَدَا ، كلاً بَل داخل نہیں ہو گا۔ایسی بات ہرگز نہیں بلکہ ہمارے عقیدہ الْأَنْبِيَاء عِنْدَنَا أَوَّلُ الدَّاخِلِينَ۔أَيَظُنُ کے مطابق انبیاء سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے الْمُؤمن الذى يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ أَنَّ والے ہیں۔کیا کوئی ایسا مومن جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول النَّبِيِّينَ وَالصَّدِّيقِينَ يُبْعَدُونَ عَنِ سے محبت رکھتا ہے یہ گمان کر سکتا ہے کہ نبی اور صدیق یومِ الْجَنَّةِ إِلى يَوْمِ الْبَعْثِ وَلَا يَجِدُونَ مِنْهَا بعث تک جنت سے دور رکھے جائیں گے۔اور اس کی رَائِحَةً، وَأَمَّا الشُّهَدَاء فَيَدْخُلُونَهَا مِنْ راحت بخش ہوا کو نہیں پائیں گے لیکن شہداء فوری طور پر غَيْرِ مُكْبٍ خَالِدِينَ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔فَاعْلَمُ يَا أَخِي أَنَّ هَذِهِ الْعَقِيدَةُ اے میرے بھائی ! جان لے کہ یہ عقیدہ ردی ، فاسد اور رَدِيَّةٌ فَاسِدَةً وَمَمْلُوةٌ مِن سُوءِ الْأَدَبِ بے ادبی سے پر ہے۔کیا تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا