تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 255
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة الفجر أَمَا قَرَأْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللہ یہ قول احادیث میں نہیں پڑھا کہ جنت میری قبر کے نیچے ہے نیز آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَنَّةَ نے فرمایا کہ مومن کی قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے تَحتَ قَبْرِى وَقَالَ إِنَّ قَبْر اور خدائے عزوجل نے اپنی محکم کتاب ( قرآن کریم ) میں فرمایا ہے الْمُؤْمِنِ رَوْضَةٌ مِنْ رَوْضَاتِ يَآيَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً الْجَنَّةِ، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِی جَنَّتِی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی الْمُحْكَمِ يَآيَّتُهَا النَّفْسُ المُمينَةُ طرف لوٹ آ اس حال میں کہ تو اسے پسند کرنے والا بھی ہے اور اس ارْجِعِى إِلى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّة کا پسندیدہ بھی۔اور پھر تیرا رب مجھے کہتا ہے کہ آمیرے خاص فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلَى جَنَّتی بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں بھی داخل ہو جا۔حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۴۹) فَادْخُلِى فِي عِبدِي وَادْخُلی جنتی بھی اجسام کو چاہتا ہے۔۔۔۔سچی اور بالکل سچی اور صاف بات یہی ہے کہ اجسام ضرور ملتے ہیں لیکن یہ عصری اجسام یہاں ہی رہ جاتے ہیں یہ اوپر نہیں جا سکتے۔دود (ترجمه از مرتب) احکام جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ / اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آجا۔ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہر ہورہا ہے کہ انسان کی روح کے لئے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخر الذکر میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادت کاملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالات فطرتی کو پالیتا ہے اور اپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچادیتا ہے اس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فَادْخُلی فی عبدی کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔سو اب دیکھئے اس آیت سے کس قدر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہو جاتا ہے۔اگر عبودیت انسان کے لئے ایک عارضی جامہ ہوتا اور اصل حقیقت اس کی الوہیت ہوتی تو چاہیے تھا کہ بعد طے کرنے تمام مراتب سلوک کے الوہیت کے نام سے پکارا جاتالیکن فَادْخُلِي فِي عِبدِی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ عبودیت اس جہان میں بھی دائمی ہے جو ابد الآبادر ہے گی اور یہ آیت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ انسان کو کیسے ہی کمالات حاصل کرے مگر وہ کسی حالت میں عبودیت سے باہر