تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵۰ سورة الفجر اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔وہ دیکھتا ہے پر نہیں دیکھتا کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہوسکتا تھا ایک موت واقعہ ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اٹھا سکتا یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمان کامل کی ضرورت ہے۔پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل الحکم جلد ۸ نمبر امور محه ۱۰ر جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳) کریں۔یں تاشوں میں سے بھی ے کہ اطمینان یافت کی میں پاتے ہیں۔نفس مطمئنہ کی تا شیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔امارہ والے میں نفس امارہ کی تاثیریں ہوتی ہیں اور جو شخص نفس مطمئنہ والے کی صحبت میں بیٹھتا ہے اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنے لگتی ہے۔مطمئنہ والے کو پہلی نعمت یہ دی جاتی ہے کہ وہ خدا سے آرام پاتا ہے جیسے فرمایا ہے یايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْنَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ یعنی اے خدا تعالیٰ میں آرام یافتہ نفس اپنے رب کی طرف آجا۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔اس میں ایک بار یک نکتہ معرفت ہے جو یہ کہا کہ خدا تجھ سے راضی تو خدا سے راضی۔بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس مرحلہ پر نہیں پہنچتا اور لوامہ کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ سے ایک قسم کی لڑائی رہتی ہے یعنی کبھی کبھی وہ نفس کی تحریک سے نافرمانی بھی کر بیٹھتا ہے لیکن جب مطمعنہ کی حالت پر پہنچتا ہے تو اس جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی سے صلح ہو جاتی ہے۔اس وقت وہ خدا سے راضی ہوتا ہے اور خدا اس سے راضی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ لڑائی بھڑائی بالکل جاتی رہتی ہے۔یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شخص خدا تعالیٰ سے لڑائی رکھتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتا ہے اور بہت ساری امانی اور امیدیں رکھتا ہے لیکن اس کی وہ دعا ئیں نہیں سنی جاتی ہیں یا خلاف امید کوئی بات ظاہر ہوتی ہے تو دل کے اندر اللہ تعالیٰ سے ایک لڑائی شروع کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ پر بدظنی اور اس سے ناراضگی کا اظہار کرتا ہے لیکن صالحین اور عباد الرحمن کی کبھی اللہ تعالیٰ سے جنگ نہیں ہوتی