تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 249

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة الفجر مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) کا وعدہ ہے۔میری دعا تھی کہ طوس میں مروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہونے پر مجھ کو شک ہوا اس لئے میں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں۔غرضیکہ راضِيَةً مَرْضِيَّةٌ صرف مومنوں کے لئے ہے دنیا میں بڑے بڑے مالداروں کی موت سخت نامرادی سے ہوتی ہے۔دنیا دار کی موت کے وقت ایک خواہش پیدا ہوتی ہے اور اسی وقت اسے نزع ہوتی ہے۔یہ اس لئے ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اسے عذاب دیوے اور اس کی حسرت کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں تا کہ انبیاء کی موت جو کہ رَاضِيَةً مَرْضِيّةً کی مصداق ہوتی ہے اس میں اور دنیا دار کی موت میں ایک بین فرق ہو۔دنیا دار کتنی ہی کوشش کرے مگر اس کی موت کے وقت حسرت کے اسباب ضرور پیش ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ راضِيَةً مَرْضِيّةٌ کی موت مقبولین کی دولت ہے۔اس وقت ہر ایک قسم کی حسرت دور ہو کر ان کی جان نکلتی ہے۔راضی کا لفظ بہت عمدہ ہے اور ایک مومن کی مرادیں اصل میں دین کے لئے ہوا کرتی ہیں۔خدا کی کامیابی اور اس کے دین کی کامیابی اس کا اصل مدعا ہوا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت ہی اعلیٰ ہے کہ جن کو اس قسم کی موت نصیب ہوئی۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۲۱۸) تیسری حالت جو نفس مطمئنہ کی حالت ہے یہ وہ حالت ہے جب ساری لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور کامل فتح ہو جاتی ہے اسی لئے اس کا نام نفس مطمئنہ رکھا ہے یعنی اطمینان یافتہ۔اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر سچا ایمان لاتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ واقعی خدا ہے۔نفس مطمئنہ کی انتہائی حد خدا پر ایمان ہوتا ہے کیونکہ کامل اطمینان اور تسلی اسی وقت ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہو۔یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصل جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر ایمان صالحہ میں کمزوری اور ستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کا ملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اس قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔دیکھو اگرکسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیوں کر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قومی کاٹ دیئے جاویں پھر وہ گناہ جو ان اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمعنہ