تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 174

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة التكوير نَظِيرَهَا فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ وَ كَذَالِكَ کرو تو تمہیں ان کی کثرت ترسیل تعجب میں ڈالے گی اور تم تُعْجِبُكَ كَثْرَةُ الْمُسَافِرِينَ وَ التَّجَارِينَ اس کی پہلے زمانوں میں نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی طرح تم کو فَتِلْكَ وَسَائِلُ تَزْوِيجِ النَّاسِ وَ مسافروں اور تاجروں کی کثرت بھی تعجب میں ڈالے گی ۔سو تَعَارُفِهِمْ مَا كَانَ مِنْهَا آثَرَ مِنْ قَبْلُ وَ یہ سب لوگوں کے آپس میں ملانے اور ان کے آپس میں إِنِّي أَنْشَدْتُكُمُ اللهَ أَرَأَيْتُمْ مِثْلَهَا قَبْلَ تعارف کے اسباب و ذرائع ہیں جن کا اس سے قبل نام و نشان هَذَا أَوَ كُنْتُمْ فِي كُتُبِ تَقْرَءُونَ وَأَمَّا تک بھی نہ تھا۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا نَشْرُ الصُّحُفِ فَهُوَ إِشَارَةٌ إِلى وَسَائِلِهَا ہوں کہ کیا تم نے اس سے قبل کبھی ایسا دیکھا یا کیا تم نے اس الَّتِي هِيَ الْمَطَابِعُ كَمَا تَرَى أَنَّ الله سے قبل کتابوں میں یہ سب باتیں پڑھی ہیں ۔ اور نشر صحف بَعَثَ قَوْمًا أَوْجَدُوا أَلَاتِ الطَّبْع سے اس کے ان وسائل یعنی پریس وغیرہ کی طرف اشارہ ہے فَكَأَيِّنْ مِنْ مَطْبَع يُوجَدُ فِي الْهِنْدِ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کو پیدا کیا جس وَغَيْرِهِ مِنَ الْبِلَادِ ذَالِكَ فَعَلَ الله نے آلات طبع ایجاد کئے۔ دیکھو کس قدر پر لیس ہیں جو ہندوستان ليَنْصُرَنَا فِي أَمْرِنَا وَلِيُشِیعَ دِينَنَا وَ اور دوسرے ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل كُتُبَنَا وَ يُبَلِّغَ مَعَارِفَنَا إِلى كُلِّ قَوْمٍ ہے تا وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کرے اور ہمارے دین لَّعَلَّهُمْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْهِ وَلَعَلَّهُمْ اور ہماری کتابوں کو پھیلائے اور ہمارے معارف کو ہر قوم يَرْشُدُونَ ۔۔۔۔ وَ أَمَّا حَشْرُ الْوُحُوشِ تک پہنچائے تا وہ ان کی طرف کان دھریں اور ہدایت فَهُوَ إِشَارَةً إِلى كَثْرَةِ الْجَاهِلِينَ پائیں ۔۔۔۔ وحشیوں کے اکٹھا کئے جانے سے اس طرف الْفَاسِقِينَ وَ ذِهَابِ الدِّيَانَةِ وَالتَّقوى اشارہ ہے کہ جاہلوں اور فاسقوں کی کثرت ہو جائے گی اور فَتَرَوْنَ بِأَعْيُنِكُمْ كَيْفَ نُزِحَ بِثْرُ دیانت اور تقویٰ ختم ہو جائے گا۔ سو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ الصَّلَاحِ وَ أَصْبَحَ مَاء غَوْرًا وَ أَكْثَرُ رہے ہو کہ کس طرح نیکی کا کنواں خشک ہو گیا ہے اور اس کا الْخَلْقِ يَسْعَوْنَ إِلَى الشَّرِ وَ فِي أُمُورِ پانی نیچے چلا گیا ہے اور اکثر لوگ شر کی طرف دوڑے چلے الدِّينِ يُدْهِنُونَ ذَا رَأَوْا شَرًّا جاتے ہیں لیکن امور دین میں مداہنت سے کام لیتے ہیں۔ فَيَأْخُذُونَهُ وَ إِذَا رَأَوْا خَيْرًا فَهُمْ عَلى جب وہ کوئی بری بات دیکھتے ہیں تو اسے اختیار کر لیتے ہیں اَعْقَابِهِمْ يَنْقَلِبُونَ يَنْظُرُونَ إِلى اور جب کوئی نیکی دیکھتے ہیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاتے