تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 174
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة التكوير نَظِيرَهَا في أَوَّلِ الزَّمَانِ وَ كَذَالِكَ کرو تو تمہیں ان کی کثرت ترسیل تعجب میں ڈالے گی اور تم تُعْجِبُكَ كَثْرَةُ الْمُسَافِرِینَ وَ التَّجَارِينَ اس کی پہلے زمانوں میں نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی طرح تم کو فَتِلْكَ وَسَائِلُ تَزويج النَّاسِ وَ مسافروں اور تاجروں کی کثرت بھی تعجب میں ڈالے گی۔سو تَعَارُفِهِمْ مَا كَانَ مِنْهَا أَثر مِن قَبْلُ وَ یہ سب لوگوں کے آپس میں ملانے اور ان کے آپس میں إِنِّي انْشَدُتُكُمُ اللهَ أَرَأَيْتُمْ مِثْلَهَا قَبْلَ تعارف کے اسباب و ذرائع ہیں جن کا اس سے قبل نام ونشان هذَا أَوَ كُنْتُمْ فِي كُتُبِ تَقْرَءُونَ وَأَمَّا تک بھی نہ تھا۔اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا نَفرُ الصُّحُفِ فَهُوَ إشَارَةٌ إلى وَسَائِلِهَا ہوں کہ کیا تم نے اس سے قبل کبھی ایساد دیکھا یا کیا تم نے اس تم التى هى الْمَطابِعُ كَمَا تَرى أن الله سے قبل کتابوں میں یہ سب باتیں پڑھی ہیں۔اور نشر صحف بعد قَوْمًا أوجدوا الاتِ الطَّبع سے اس کے ان وسائل یعنی پریس وغیرہ کی طرف اشارہ ہے فَكَأَيْنَ مِنْ مَّطْبَع يُوجَدُ فِي الْهِنْدِ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کو پیدا کیا جس وَغَيْرِهِ مِنَ الْبِلادِ ذَالِكَ فَعَلَ الله نے آلات طبع ایجاد کئے۔دیکھو کس قدر پریس ہیں جو ہندوستان لِيَنصُرَنَا فِي أَمْرِنَا وَلِيُشِیعَ دِينَنَا وَ اور دوسرے ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فعل كُتُبَنَا وَ يُبَلِّغَ مَعَارِفَنَا إلى كل قوم ہے تا وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کرے اور ہمارے دین لَّعَلَّهُمْ يَسْتَبِعُوْنَ إِلَيْهِ وَلَعَلَّهُمْ اور ہماری کتابوں کو پھیلائے اور ہمارے معارف کو ہر قوم يَرْشُدُونَ۔۔۔۔۔وَ أَمَّا حَشْرُ الْوُحُوش تک پہنچائے تا وہ ان کی طرف کان دھریں اور ہدایت فَهُوَ إِشَارَةٌ إلى كَثْرَةِ الْجاهلين پائیں۔۔۔۔وحشیوں کے اکٹھا کئے جانے سے اس طرف الْفَاسِقِينَ وَذِهَابِ الرِّيَانَةِ وَالتَّقْوَی اشارہ ہے کہ جاہلوں اور فاسقوں کی کثرت ہو جائے گی اور فَتَرَوْنَ بِأَعْيُنِكُمْ كَيْفَ نُزع پر دیانت اور تقویٰ ختم ہو جائے گا۔سو تم اپنی آنکھوں سے دیکھے الصَّلَاحِ وَ أَصْبَحَ مَاءَهُ غَوْرًا وَ اَكْثَرُ رہے ہو کہ کس طرح نیکی کا کنواں خشک ہو گیا ہے اور اس کا الْخَلْقِ يَسْعَوْنَ إِلى اللير وَ فی اُمور پانی نیچے چلا گیا ہے اور اکثر لوگ شر کی طرف دوڑے چلے الدِّينِ يُدْهِنُونَ إِذَا رَأَوُا شَرًّا جاتے ہیں لیکن امور دین میں مداہنت سے کام لیتے ہیں۔فَيَأْخُذُونَهُ وَإِذَا رَأَوْا خَيْرًا فَهُمْ عَلی جب وہ کوئی بری بات دیکھتے ہیں تو اسے اختیار کر لیتے ہیں أَعْقَابِهِمْ يَنْقَلِبُونَ يَنْظُرُونَ إِلى اور جب کوئی نیکی دیکھتے ہیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاتے