تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 175

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۵ سورة التكوير صَنَائِحِ الْكَفَرَةِ بِنَظرِ الْحُبّ وَ عَن صُنع ہیں۔وہ کافروں کی بنی ہوئی چیزوں کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صنعتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اللهِ يُعْرِضُونَ (ترجمه از مرتب) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۶۸ تا ۴۷۴) قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض جدید حالات کی نسبت ایسی خبر میں دی گئی ہیں جو ہمارے اس زمانہ میں بہت صفائی سے پوری ہوگئی ہیں جیسا کہ اس میں ایک یہ پیشگوئی کہ آخری زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان دنوں میں ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی چنانچہ قرآن شریف کی پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں وَ إِذَا الْعِشَارُ عُظلت یعنی وہ آخری زمانہ جب اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور بیکار ہونا تبھی ہوتا ہے کہ جب ان پر سوار ہونے کی حاجت نہ ہو اور اس سے صریح طور پر نکلتا ہے کہ اونٹنیوں کی جگہ کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی اس آیت کی تشریح کتاب صحیح مسلم میں موجود ہے۔اس میں یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہے وَيُتْرَكَ الْقِلاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں ترک کی جائیں گی اور کسی منزل تک جلدی پہنچنے کے اور دوڑ کر جانے کے لئے وہ کام نہیں آئیں گی یعنی کوئی ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ بہ نسبت اونٹنیوں کے بہت جلد منزلِ مقصود تک پہنچائے گی۔غرض یسٹی کا لفظ جو حدیث میں ہے اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ دوڑنے کے کام میں اونٹ سے بہتر کوئی اور سواری نکل آوے گی۔یہ عجیب بات ہے کہ صحیح مسلم میں جس جگہ مسیح موعود کے زمانہ کا ذکر ہے اسی جگہ یہ حدیث اونٹنیوں کے ترک کرنے کے بارہ میں ہے اور یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تیرہ سو برس بعد پوری ہوئی چنانچہ ان دنوں میں یہ کوشش بھی ہو رہی ہے کہ ایک سال تک مکہ اور مدینہ میں ریل جاری کر دی جائے پس اس وقت جب ریل جاری ہو جائے گی یہ نظارہ ہر ایک مومن کے لئے ایمان کو زیادہ کرنے والا ہوگا اور جس وقت ہزار ہا اونٹ بیکار ہو کر بجائے ان کے ریل گاڑیاں مکہ سے مدینہ تک جائیں گی اور دمشق اور دوسری اطراف شام وغیرہ کے حج کرنے والے کئی لاکھ انسان ریل گاڑیوں میں سوار ہو کر مکہ معظمہ میں پہنچیں گے تب کوئی لعنتی آدمی ہو گا کہ اس نظارہ کو دیکھ کر اپنے سچے دل سے اس بات کی تصدیق نہیں کرے گا کہ وہ پیشگوئی جو قرآن شریف اور حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے آج پوری ہوگئی۔یادر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے یہ ایک عظیم الشان نشان ہے کہ آپ نے تیرہ سو برس پہلے ایک نئی سواری کی خبر دی ہے اور اس خبر کو قرآن شریف اور حدیث صحیح دونوں مل کر پیش کرتے ہیں۔