تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 173

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التكوير وَكَاتَهُمْ مُتَقَارِبُونَ وَ مِنْهَا إِشَارَةٌ که گویا ان کے درمیان کوئی روک نہ ہو اور وہ ایک دوسرے إِلى أَمَنِ طُرُقِ الْبَحْرِ وَ الْبَرِّ وَ رَفع کے بالکل قریب ہوں۔اور لوگوں کے آپس میں ملانے سے الْحَرج فَيَسِيرُ النَّاسُ مِن بلاد الى اس طرف اشارہ ہے کہ بحری اور بری راستوں پر امن ہوگا اور بِلادٍ وَلَا يَخَافُونَ وَلَا شَكٍّ أن في سفر کی مشکلات دور ہو جائیں گی اور لوگ ایک ملک سے هذَا الزَّمَانِ زَادَتْت تعلقات البلادِ دوسرے ملک تک بغیر کسی خوف وخطر کے سفر کر سکیں گے اور بِالْبِلَادِ وَ تَعَارُفُ النَّاسِ بِالنَّاسِ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمانہ میں ملکوں کے ملکوں کے فَهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ يُزَوْجُوْنَ وَ زَوج ساتھ تعلقات زیادہ ہو گئے ہیں اور لوگوں کا ایک دوسرے الله التجار بالتجار وأَهْلَ الشُّعُور سے تعارف بڑھ گیا ہے۔پس گویا کہ وہ ہر روز ایک دوسرے بِأَهْلِ الشُّغُورِ وَ أَهْلَ الْحَرْفَةِ بِأَهْل سے ملائے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تاجروں کو تاجروں الْحَرْفَةِ فَهُمْ فِي جَلْبِ التَّفْعِ وَ دَفع سے اور ایک سرحد کے رہنے والوں کو دوسری سرحد کے رہنے الضَّرَرِ مُتَشَارِكُونَ۔وَفِي كُلّ نِعْمَةٍ و والوں کے ساتھ اور ایک حرفہ والوں کو دوسرے حرفہ والوں سُرُورٍ و لِبَاس وَ طَعَامٍ وَ حُبُورٍ کے ساتھ ملا دیا ہے اور وہ نفع حاصل کرنے اور نقصان کو دور متَعَاوِنُونَ۔وَ يُجْلَبُ كُلُّ شَيْءٍ ممن کرنے میں باہم شریک ہو گئے ہیں اور وہ ہر نعمت ،سرور ، خِظَةٍ إلى خِظَةٍ فَانْظُرْ كَيْفَ زَوج لباس ، کھانے اور سامان آسائش میں ایک دوسرے کے النَّاسَ كَأْتَهُمْ فى قَارِبِ وَاحِدٍ معاون بن گئے ہیں اور ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں ہر فِي جَالِسُونَ وَ مِنْ أَسْبَابِ هذا چیز لائی جاتی ہے۔پس دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو التزويج سيرُ النَّاس في وابور ملا دیا ہے گویا کہ وہ ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔نیز آپس میں الروالْبَحْرِ فَهُمْ في تلك الْأَسْفَار ملانے کے ان سامانوں میں سے خشکی اور ترکی کی گاڑیوں يَتَعَارَفُونَ۔وَ مِنْ أَسْبَابِه مَكْتُوبَات میں لوگوں کا سفر کرنا ہے وہ ان سفروں کے دوران ایک قد أُحسِنَتُ طُرُقُ اِرُسَالِهَا فَتَری دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔اور ملائے جانے کے ان أَنَّهَا تُرْسَلُ إِلَى أَقَاصِي الْأَرْضِ وَ اسباب میں ایک خطوط کا سلسلہ بھی ہے جس کے بھجوانے کے ارْجَاءَهَا وَ إِنْ أَمْعَنْتَ النظر وسائل بہت عمدہ بنادیئے گئے ہیں تم دیکھ رہے ہو کہ خطوط کیسے دنیا فَتُعْجِبُكَ كَثْرَةُ السَالِهَا وَ لَن تجد کے کناروں تک بھیجے جاسکتے ہیں اور اگر تم اس بارے میں غور