تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 172
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ سورة التكوير ا عَلَيْهِ أَوْزَارَهُمْ وَ أَثْقَالَهُمْ وَ كَتَنِ سوار ہوتے ہیں اور اس پر اپنا اسباب اور بوجھ لادتے ہیں الْأَرْضِ مِنْ مُّلْكٍ إِلى مُلْكٍ يَصِلُونَ اور زمین کے اطراف کو لپیٹنے کی مانند وہ ایک ملک سے ذَالِك مِن فَضْلِ الله عَلَيْنَا وَ عَلَی دوسرے ملک میں پہنچتے ہیں۔یہ اللہ تعالی کا ہم پر اور النَّاسِ وَلكِن اكثر الناس لا دوسرے لوگوں پر بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں يَشْكُرُونَ جَعَلَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمُ کرتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال کر انہیں أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوا أَسْرَارَهُ وَ فی اذانیم اس بات کے اسرار کو سمجھنے سے روک دیا ہے اور ان کے وَقْرًا فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ۔وَإِذَا وَجَدُوا کانوں میں بہرہ پن پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ سن صَنْعَةٌ مِنْ صَنَائِعِ النَّاسِ وَلَوْ مِن نہیں سکتے۔اور جب وہ لوگوں کی کسی صنعت کو دیکھتے ہیں خواہ أَيْدِي الْكَفَرَةِ يَأْخُذُونَهَا لِيَنْتَفِعُوْا بِهَا وہ کافروں کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہو وہ اسے لے لیتے ہیں تا وَ إِذَا رَأَوْا صَنْعَةً رَحْمَةٍ مِّنَ اللہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کی فَيَرُدُّونَ۔وَأَمَّا تَزويج النُّفُوسِ فَهُوَ کوئی صنعت دیکھتے ہیں تو وہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔اور نفوس عَلى أَنحَاءِ مِنْهَا إِشَارَةٌ إِلَى التَّلْعِرَافِ کے ملانے کی علامت کئی طریق سے پوری ہوئی ہے۔ان الَّذِي يَمدُّ النَّاسَ فِي كُلّ سَاعَةِ میں سے ایک تو ٹیلیگراف ( تار برقی ) کی طرف اشارہ ہے جو الْعُسْرَةِ وَ يَأْتِي بِأَخْبَارِ أَعِزَّةٍ كَانُوا ہر تنگی کے وقت میں لوگوں کی مدد کرتا ہے اور زمین کے دور بِأَقْصَى الْأَرْضِ فَيُنَهِ عَنْ حَالا هم افتادہ حصوں میں رہنے والے عزیزوں کی خبر لاتا ہے اور قبیل حَالَاتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَقُوْمَ الْمُسْتَفْسِرُ مِن مَّقَامِہ اس کے کہ دریافت کرنے والا اپنی جگہ سے اُٹھے تار برقی وَيُدِيرُ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِي سُوَالًا اس کے عزیزوں کی خبر دے دیتی ہے اور مغربی اور مشرقی و جَوَابًا كَأَنَّهُمْ مُلاقُونَ وَ يُخيرُ شخص کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ چلا دیتی ہے، گویا الْمُضْطَرِينَ بِأَسْرَعَ سَاعَةٍ مِّمَنْ اَحْوَالِ کہ وہ آپس میں ملاقات کر رہے ہیں۔پھر وہ ان پریشان و اشْخَاصِ هُمْ فِي أَمْرِهِمْ مُشْفِقُونَ مضطر لوگوں کو ان لوگوں کے حالات سے بہت جلد اطلاع فَلا شَكَ أَنَّهُ يُزَوْجُ نَفْسَين من پہنچا دیتی ہے جن کے متعلق وہ فکر مند ہوتے ہیں۔پس اس مكَانَيْنٍ بَعِيدَيْنِ فَيُكَلِّمُ بَعْضُهُمُ میں کوئی شک نہیں کہ وہ دور بیٹھے ہوئے اشخاص کو ملا دیتی ہے بِالْبَعْضِ كَأَنَّهُ لَا حِجَابَ بَيْنَهُمْ اور ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ یوں بات کرتا ہے