تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 171

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 121 سورة التكوير زمانہ آخری کی۔مثلاً جیسے یا جوج ماجوج کا پیدا ہونا اور اُن کا تمام ریاستوں پر فائق ہونا۔یہ پیشگوئی آخری زمانہ کے متعلق ہے۔اور حدیث مسلم نے پیشگوئی يُترك القلاص میں صاف تشریح کر دی ہے اور کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسیح کے وقت میں اونٹ کی سواری ترک کر دی جائے گی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۹۴ تا ۱۹۸) و وَ مِنْ عَلَامَاتِ آخِرِ الزَّمَانِ الَّتِي آخری زمانہ کی علامات سے جن کی خبر اللہ تعالیٰ نے الحبرَ اللهُ تَعَالَى مِنْهَا فِي الْقُرْآنِ وَاقِعَات قرآن مجید میں دی ہے۔وہ وہ واقعات نادرہ ہیں جن کا تم كَادِرَةٌ تُشَاهِدُوْنَهَا في هَذَا الزَّمَانِ اس زمانہ میں مشاہدہ کر رہے ہو اور جن کو تم موجود پاتے وَتَجِدُونَ۔وَقَدْ بَيَّنَ لَنَا عَلَامَاتِهِ وَقَالَ ہو۔اللہ تعالی نے آخری زمانہ کی علامات ہمارے لئے إذَا الْجِبَالُ سُبْرَتْ وَإِذَا الْحَارُ سُچوت کھول کر بیان کی ہیں چنانچہ فرما یا اذَا الْجِبَالُ سُيْرَت۔وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سُجْرَتْ - وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ - وَإِذَا وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ النُّفُوسُ زُوجَتْ - وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ - إِذَا زُلْزِلَتِ الآية۔وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتُ وَ الْقَتْ مَا فِيهَا الْأَرْضُ الآية - وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّت - وَ الْقَتْ مَا فِيهَا وَ وَ تَخَلَّتُ وَ إِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَ إِذَا تَخَلَّتْ وَ إِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَ إِذَا الْوُحُوش الوحوش حُشِرَتْ۔وَ فى كُل ذَالِكَ انْباء اخر حُشِرَتْ - ان تمام آیات میں غور کرنے والے لوگوں کے الزَّمَانِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ أَمَّا تَسْبِيرُ لئے آخری زمانہ کی علامات بیان ہوئی ہیں۔تسییر الْجِبَالِ فَقَد رَأَيْتُمْ بِأَعْيُنِكُمْ أَنَّ الْجِبَالَ الْجِبَالِ کو تو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ کس كَيْفَ سُيِّرَتْ وَ أُزِيلَتْ مِنْ مَوَاضِعِهَا وَ طرح سے پہاڑ چلائے گئے اور انہیں ان کی جگہوں سے خِيَامُهَا هُدِّمَتْ وَقُنُونَهَا لَا قَتِ الْوِهَادَ بنا دیا گیا۔اور ان کے خیمے گرا دیئے گئے۔اور ان کی وَ صُفُوفُهَا تَقَوَّضَتْ تنهون علی چوٹیاں پست ہو گئیں اور ان کے سلسلے ایسے ہموار ہو گئے تَمْشُونَ مَنَاكِبِهَا وَ تَأْفَدُونَ۔۔۔۔وَ أَمَّا تَعْطِيلُ کہ تم ان کے اطراف میں چلتے پھرتے اور وہاں آتے الْعِشَارِ فَهُوَ إِشَارَةٌ إِلى وَابُوَرِ الْبَرِ الَّذِئ جاتے ہو۔۔۔۔اونٹیاں بیکار ہو جانے سے ریل گاڑی کی عقل الْعِشَارَ وَالْقِلَاصَ فَلَا يُسْغِى عَلَيْهَا طرف اشارہ ہے جس نے اونٹنیوں کو بریکار کر دیا ہے ان پر وَالْخَلْقُ عَلَى الْوَابُوَرِ يَرْكَبُونَ وَ يَحْمَلُوْنَ اب تیز رفتاری سے سفر نہیں کیا جا تاریل گاڑی پر ہی لوگ