تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة القيامة دَاخِل هَذَا الْمَعْلى وَأَمَّا تَكْوِيرُ الشَّمْسِ اپنی پہلی سیرت کی طرف عود کر آویں اور خسوف کسوف کی وَالْقَمَرِ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَهِيَ حَقِيقَةٌ تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اپنی پہلی حالت کی أُخْرَى، وَلَا يُرَدُّ فِيْهِمَا نُورُهُما إِلى حَالَةٍ طرف رجوع کریں مگر تکویر شمس و قمر جو قیامت میں ہوگی وہ أُولى، بَلْ لَّا يَكُونُ وَقُوعُهُ إِلَّا بَعْدَ فَكِ اور حقیقت ہے اور تکویر کے وقت نور شمس و قمر اپنی پہلی النظامِ وَالْفَسَادِ النّامِ وَهَدّم هذا حالت کی طرف نہیں آئے گا بلکہ تکویر کا وقوع فک نظام الْمَقَامِ، وَمَا سَماهُ اللهُ حُسُوفًا وَكُسُوفًا اور فساد تام اور انہدام کلی کے وقت ہو گا اور اس کا نام بَلْ سَماهُ تَكُويرًا أَوْ كَشْطَ الْأَجْرَامِ، كَمَا خدا تعالیٰ نے خسوف کسوف نہیں رکھا بلکہ اس کا نام تکویر أَنْتُمْ تَقْرَءُونَ فِي كَلَامِ اللهِ الْعَلّام اور کشط رکھا ہے جیسا کہ تم خدا تعالیٰ کے کلام میں پڑھتے فَتَبَتَ مِنْ هَذَا الْكَلَامِ عِنْدَ الخواص ہو۔پس اس کلام سے خواص اور عوام پر ثابت ہو گیا کہ جو وَالْعَوَامِ، أَنَّ مَا ذُكِرَ مِنَ الْآيَةِ في هذهِ نشان خسوف کسوف قرآن شریف میں یعنی اس آیت میں الْآيَةِ فَهُوَ يَتَعَلَّق بِالدُّنْيَا لَا بِالْآخِرَةِ لکھا ہے وہ دنیا سے تعلق رکھتا ہے نہ آخرت سے اور وَعَزْوُهُ إِلَى الْقِيَامَةِ بِنَاءً عَلَى الرِوَايَةِ قیامت کی طرف اس کو منسوب کرنا اور کسی روایت کو پیش خطأ في الدّرَايَةِ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ أَخَبَارِ کرنا خطا في الدرایت ہے بلکہ وہ آخر زمانہ اور قرب آخِرِ الزَّمَانِ وَقُرْبِ السَّاعَةِ واقتراب قیامت کی خبروں میں سے ایک خبر ہے جیسا کہ تدبر کرنے الْأَوَانِ كَمَا لَا يخفى عَلَى الْمُتَدَبِرِينَ۔والوں پر پوشیدہ نہیں۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) (نور الحق حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۹۳ تا ۱۹۶) و قد جمع الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ كَمَا ذَكَرَ اور چاند اور سورج جمع کئے گئے جیسا کہ قرآن شریف الْقُرْآنُ وَ كُسِفَا فِي رَمَضَانَ كَشفِ الْقَمَرِ میں ذکر آیا ہے اور دونوں کا رمضان شریف میں في زَمَنِ خَيْر الْوَرى۔کسوف و خسوف ہو گیا جیسے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ (۹۴) کے زمانہ میں شق القمر ہوا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) إِنَّ عِيسَى كَانَ عِلْمًا لِلسَّاعَةِ الْيَهُودِ تحقیق عیسی علیہ السلام یہودیوں کی تباہی کی گھڑی و انا عِلْمٌ لِلسَّاعَةِ الَّتِى تُخشَرُ النَّاسُ کے لئے ایک دلیل تھے اور میں قیامت کے لئے ایک دلیل فِيهَا وَ تُحْيى كُلُّ نَفْسٍ لِتُجزى۔وَقَدْ ظَهَرَ ہوں اور بہت سے اس زمانہ کے علامات قرآن شریف