تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 126
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۶ سورة القيامة الْكَرِيمِ، وَقَالَ لِلتَّعْلِيمِ وَالتَّفْهِيْمِ فَإِذَا سمجھانے اور جتلانے کے لئے فرمایا ہے پس جس وقت برق الْبَصَرُ وَخَسَفَ القَمَرُ وَ جُمعَ الشَّمْسُ وَ آنکھیں پتھرا جائیں گی اور چاند گرہن ہوگا۔اور سورج الْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَبِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ اور چاند ا کٹھے کئے جائیں گے یعنی سورج کو بھی گرہن فَتَفَكَّرُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ بِقَلْبِ أَسْلَمَ لگے گا تب اس روز انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں وَأَظْهَرَ فَإِنَّهُ مِنْ آثَارِ الْقِيَامَةِ لَا مِن ہے۔سو اس نشان میں ایک سلیم اور پاک دل کے ساتھ أَخْبَارِ الْقِيَامَةِ كَمَا هُوَ أَجْلى وَأَظْهَرَ عِنْدَ فکر کرو کیونکہ یہ خبر قیامت کے آثار میں سے ہے قیامت الْعَاقِلِينَ۔فَإِنَّ الْقِيَامَةَ عِبَارَةٌ عَن فَسَادٍ کے واقعات میں سے نہیں ہو سکتی جیسا کہ عقلمندوں کے نِظَامِ هَذَا الْعَالَمِ الْأَصْغَرِ وَخَلْقٍ الْعَالَمِ نزدیک نہایت صاف اور روشن ہے۔وجہ یہ کہ قیامت الْأَكْبَرِ فَكَيْفَ يَقَعُ في حَالَةِ الْقَكِ اس حال سے مراد ہے جبکہ اس عالم اصغر کا نظام توڑ دیا الخسوف الَّذِي تَعْرِفُونَ بِالْيَقِينِ لا جائے اور ایک عالم اکبر پیدا کیا جائے پس کیوں کر فک بالشَّكِ عِلله وَأَسْبَابَهُ وَتَفَهَمُونَ نظام کی حالت میں وہ خسوف کسوف ہو سکتا ہے جس کے مَوَاقِعَهُ وَأَبْوَابَهُ؟ وَكَيْفَ يَظْهَرُ أَمْرُ لَّازِمٌ علل اور اسباب تمہیں معلوم ہیں اور اس کے ظہور کے لِلنَّظَامِ بَعْدَ فَكِ النَّظَامِ وَالْفَسَادِ وقت اور ظہور کے دروازے تم نے سمجھے ہوئے ہیں اور وہ الثَّامِ فَإِنَّكُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْخَسُوفَ امرجو نظام عالم کا ایک لازمہ ذاتی ہے کیوں کر بعد فک وَالْكُسُوْفَ يَنْشَانِ مِنْ أَشْكالِ نِظامِيَّة نظام اور فک تام کے ظہور پذیر ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ وَأَوْضَاع مُقَرِّرَةٍ مُنتَظِمَةٍ عَلى أَوقات خسوف اور کسوف اشکال نظامیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور مُعَيَّنَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْرُوفَةٍ مُبَيَّنَةٍ فَكَيْفَ نیز ان کا پیدا ہونا اوضاع مقررہ منظمہ پر موقوف ہے جو يُعْزَى وُقُوعُهَا إِلى سَاعَةٍ لَا أَنْسَابَ فِيهَا ان اوقات معینہ اور مشہور دنوں پر موقوف ہے جو فن بیت وَلَا أَسْبَابٌ، وَلَا نِظام وَلَا احكام میں بیان کئے گئے ہیں پس کیوں کر اُن کو اس گھڑی کی فَانْظُرُوا إِن كُنْتُمْ نَاظِرِينَ ثُمَّ مِن طرف منسوب کیا جائے جس میں نہ نسب ہیں نہ اسباب نہ لَوَازِمِ الْكُسُوْفِ وَالْخُسُوفِ أَنْ يَرْجِعَ نظام نه ترتیب نه محکم کرنا سوتم سوچوا گر کچھ سوچ سکتے ہو الْقَمَرُ وَالشَّمْسُ إلى وَضْعِهِمَا الْمَعْرُوفِ پھر لوازم خسوف اور کسوف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وَيَعُودًا إلى سيريهما الأولى، وَفِي هُون بما سورج اور چاند اپنی اصلی وضع کی طرف رجوع کریں اور