تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 128
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۸ سورة القيامة اكْثَرُ عَلَامَاتِها وَذَكَرَهَا الْقُرْآن ذكرا میں مرقوم ہیں اور اونٹنیاں بیکار ہو گئیں اور کتا ہیں وَعُقِلَتِ الْعِشَارُ وَنُشِرَتِ الصُّحُفُ وَالْأَسْفَارُ بے شمار شائع ہوئیں اور چاند سورج کو رمضان میں وَ مُجمِيعَ الْقَمَرُ وَالشَّمْسُ فِي رَمَضَانَ گرہن لگا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) خطبہ الہامیه، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۲۱) ثُمَّ إِذَا كَانَتْ حَقِيقَةُ الكُسُوفِ پھر جب کہ سورج گرہن کی حقیقت مشہور بِالتَّعْرِيفِ الْمَعْرُوفِ أَنَّهُ هَيْئَةٌ حَاصِلَةٌ مِن تعریف کی رو سے یہ ہوئی کہ وہ اس ہیئت حاصلہ کا نام حَوْلِ الْقَمَرِ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْأَرْضِ فِي أَوَاخِرِ ہے کہ جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہو جائے أَيَّامِ الشَّهْرِ، فَكَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ يَتَكَلَّمَ أَفَصَحُ اور یہ حائل ہو جانا مہینہ کے آخر ایام میں ہوپس کیوں الْعَجَمِ وَالْعَرَبِ يلفظ يُخَالِفُ مُحَاوَرَاتِ کر ممکن ہے کہ وہ جو عجم اور عرب کے تمام لوگوں سے الْقَوْمِ وَاللُّغَةِ وَالْأَدَبِ وَكَيْفَ يَجُوزُ أَن زیادہ تر فصیح ہے اور وہ ایسا لفظ بولے جو محاورات قوم يتَلَفظَ بِلَفْظِ وُضِعَ لِمَعْنَى عِنْدَ أَهْلِ اللَّسَانِ اور لغت اور ادب سے بالکل مخالف ہو اور جائز ہے کہ ثُمَّ يَصْرِفُهُ عَنْ ذلِكَ الْمَعْنَى مِنْ غَيْرِ إِقَامَةِ ایسا لفظ بولا جائے جو اہل زبان کے نزدیک ایک الْقَرِينَةِ وَتَفْصِيْلِ الْبَيَانِ فَإِنَّ صَرفَ خاص معنوں کے لئے موضوع ہے پھر اس کو بغیر اللَّفْظِ عَنِ الْمُحَاوَرَةِ وَمَعَانِيْهِ الْمُرَادَةِ عِنْدَ اقامت کسی قرینہ کے اس معنے سے پھیرا جائے کیونکہ أَهْلِ الْفَنِ وَأَهْلِ اللُّغَةِ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ إِلَّا کسی لفظ کا محاورہ اور معنی مراد مستعملہ سے پھیر نا اہل بِإِقَامَةِ قَرِيْنَةٍ مُوْصِلَةٍ إِلَى الْجَزْمِ وَالْيَقِينِ فن اور اہل لغت کے نزدیک جائز نہیں مگر اس حالت وَقَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْقُرْآنَ يُصَدِّى هَذَا الْبَيَان میں کہ کوئی قرینہ یقینی قائم کیا جاوے اور ہم ذکر کر چکے وَلَوْ كَانَ الْخُسُوفُ وَالْكُسُوفُ فِي أَيَّامٍ غَيْرِ ہیں کہ قرآن اس بیان کی تصدیق کرتا ہے۔اور اگر الْأَيَّامِ الْمُعْتَادَةِ بِالتَّقْلِيلِ أَوِ الزِّيَادَةِ، لَمَّا كسوف خسوف ایسے ایام میں ہوتا جو اس کے لئے سَلَمَاهُ الْقُرْآنُ حُسُوْفًا وَلَا كُسُوفًا، بَلْ ذَكَرَه سنت قدیمہ میں نہیں ہے تو قرآن اس کا نام خسوف بِلَفْظُ أَخَرَ وَبَيِّنَهُ بِبَيَانٍ أَظْهَرَ، وَلكِن كسوف نہ رکھتا بلکہ دوسرے لفظ سے بیان کرتا لیکن الْقُرْآنَ مَا فَعَلَ كَذَا كَمَا أَنتَ تَرى بَل سکمی قرآن نے ایسا نہیں کیا جیسا کہ تو دیکھتا ہے بلکہ اس کا الْخُسُوفَ خُسُوفًا لِيُفَهِمَ النَّاسَ أَمْرًا نام خوف ہی رکھا تا کہ لوگوں کو سمجھا دے کہ یہ خسوف