تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 125
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة القيامة لوامہ کہتے ہیں ملامت کرنے والے کو ۔ انسان سے ایک وقت بدی ہو جاتی ہے مگر ساتھ ہی اس کا نفس اس کو بدی کی وجہ سے ملامت بھی کرتا اور نادم ہوتا ہے۔ یہ انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے مگر بعض طبائع ایسے بھی ہیں کہ اپنی گندہ حالت اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے وہ ایسے محجوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی فطرت فطرت سلیم کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی ۔ ان کو اس ملامت کا احساس ہی نہیں ہوتا مگر شریف الطبع انسان ضرور اس حالت کا احساس کرتا اور بعض اوقات وہی ملامت نفس اس کے واسطے باعث ہدایت ہو کر موجب نجات ہو جاتی ہے مگر یہ حالت ایسی نہیں کہ اس پر اعتبار کیا جاوے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) لا يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيمَةِ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَ خَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَتْ إِلَى لا رَبِّكَ يَوْمِينِ الْمُسْتَقَرُّ فَاعْلَمُوا يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَأَتْبَاعَ پس اے اہلِ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَيْرِ الْأَنَامِ، أَنَّ الْآيَةَ الَّتِي كُنْتُمْ کی پیروی کرنے والو تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا تُوعَدُونَ فِي كِتَابِ اللهِ الْعَلامِ قرآن کریم میں تم وعدہ دیئے گئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ وَتُبَشِّرُوْنَ مِنَ سَيِّدِ الرُّسُلِ نُورِ الله علیہ وسلم سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے مُزِيلِ الظَّلَامِ أَعْنِي خُسُوفَ الشَّيْرَينِ فِي والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی رمضان شریف میں شَهْرِ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ، آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن قَدْ ظَهَرَ فِي بِلَادِنَا بِفَضْلِ اللهِ الْمَنَّانِ نازل ہوا وہ نشان ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر وَقَدِ الْخَسَفَ الْقَمَرُ وَالشَّمْسُ وَظَهَرَت ہو گیا اور چاند اور سورج کا گرہن ہوا اور دونشان ظاہر الْأَيَتَانِ، فَاشْكُرُوا اللهَ وَخَرُوا لَهُ ہوئے پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ سَاجِدِينَ کرتے ہوئے گرو۔ وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ اور تمہیں معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس واقعہ عظیمہ أَخْبَرَ عَنْ هَذَا النَّبَأُ الْعَظِيمِ فِي كِتَابِهِ کے بارے میں اپنی کتاب کریم میں خبر دی ہے اور