تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 124
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۴ سورة القيامة گر جاتا ہے اور ٹھوکر کھاتا ہے۔گویا وہ ایک کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے۔جوگر نا نہیں چاہتا ہے۔مگر کمزوری کی وجہ سے گرتا ہے۔پھر اپنی کمزوری پر نادم ہوتا ہے۔غرض یہ نفس کی وہ اخلاقی حالت ہے۔جب نفس اخلاق فاضلہ کو اپنے اندر جمع کرتا ہے اور سرکشی سے بیزار ہوتا ہے مگر پورے طور پر غالب نہیں آسکتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۸،۳۱۷) حقیقی طور پر نیک یا بد اخلاق کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان کی عقل خدا داد پختہ ہوکر اس کے ذریعہ سے نیکی اور بدی یا دو بدیوں یا دو نیکیوں کے درجہ میں فرق کر سکے۔پھر اچھے راہ کے ترک کرنے سے اپنے دل میں ایک حسرت پاوے اور برے کام کے ارتکاب سے اپنے تئیں نادم اور پشیمان دیکھے۔یہ انسان کی زندگی کا دوسرا زمانہ ہے۔جس کو خدا کے پاک کلام قرآن شریف میں نفس لوامہ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔مگر یادر ہے کہ ایک وحشی کو نفس لوامہ کی حالت تک پہنچانے کے لئے صرف سرسری نصائح کافی نہیں ہوتیں بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کو خدا شناسی کا اس قدر حصہ ملے جس سے وہ اپنی پیدائش بیہودہ اور عبث خیال نہ کرے تا معرفت الہی سے سچے اخلاق اس میں پیدا ہوں۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ساتھ ساتھ بچے خدا کی معرفت کے لئے توجہ دلائی ہے اور یقین دلایا ہے کہ ہر ایک عمل اور خلق ایک نتیجہ رکھتا ہے جو اس زندگی میں روحانی راحت یا روحانی عذاب کا موجب ہوتا ہے اور دوسری زندگی میں کھلے کھلے طور پر اپنا اثر دکھائے گا۔غرض نفس لوامہ کے درجہ پر انسان کو عقل اور معرفت اور پاک کانشنس سے اس قدر حصہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ برے کام پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اور نیک کام کا خواہشمند اور حریص رہتا ہے۔یہ وہی درجہ ہے کہ جس میں انسان اخلاق فاضلہ حاصل کرتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۱، ۳۳۲) میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کاموں اور نیز ہر ایک طرح کی بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ایسے شخص سے اگر کوئی بدی ظہور میں آجاتی ہے تو پھر وہ اس پر جلدی سے متنبہ ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس بری حرکت پر ملامت کرتا ہے اور اسی لئے اس کا نام نفس لوامہ رکھا ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا۔جو شخص اس نفس کے تابع ہوتا ہے وہ نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور پر قادر نہیں ہوتا اور طبعی جذبات اس پر کبھی نہ کبھی غالب آجاتے ہیں لیکن وہ اس حالت سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی کمزوری پر الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۲) نادم ہوتا رہتا ہے۔