تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 120
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة المدثر إلَى الْأَسْفَلِ وَ لَا صُعُودُهُمْ كَصُعُودِ چڑھنا انسانوں کی طرح نیچے سے اوپر چڑھنا ہے کیونکہ النَّاسِ مِنَ الْأَسْفَلِ إِلَى الْأَغْلى لِاَنَّ في انسان کا نزول اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا نام ہے اور نُزُولِ الْإِنْسَانِ تَحَوُّلًا مِّنَ الْمَكَانِ وَرَائِحَةً تھکن وغیرہ سے راحت حاصل کرنا ہے اور فرشتوں کو نہ تو مِنْ شِقَ الْأَنْفُسِ وَاللُّغُوبِ وَلَا يَمَسُّهُمْ ممکن اور مشقت لاحق ہوتی ہے اور نہ ان پر کوئی تغیر آتا لَغُبْ وَ لَا شِقُ وَلَا يَتَطَرِّقُ إِلَيْهِمُ تَغَيُّر ہے۔پس تم ان کے نزول اور صعود کو دوسری چیزوں پر فَلَا تَقِيْسُوا نُزُولَهُمْ وَصُعُودَهُمْ بِأَشْيَاء قیاس نہ کرو بلکہ ان کا نزول اور صعود اللہ تعالی کے نزول أُخْرَى بَلْ نُزُولُهُمْ وَ صُعُودُهُمْ بِصِبْغ اور سماء الدنیا سے عرش کی طرف صعود کرنے کا رنگ رکھتا نُزُولِ اللهِ وَ صُعُودِهِ مِنَ الْعَرْشِ إِلَى السَّمَاءِ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود کو ایمانیات الدُّنْيَا لأَنَّ اللهَ أَدْخَلَ وُجُودَهُمْ في میں داخل فرمایا ہے۔چنانچہ ارشاد الہی ہے کہ اللہ کے الْإِيْمَانِيَّاتِ وَقَالَ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس تم الا هُوَ فَآمَنُوا بِنُزُولِهِمْ وَصُعُودِهِمْ وَلَا فرشتوں کے نزول اور صعود پر ایمان لاؤ لیکن اس کی کنہ تَدْخُلُوا فِي كُنْهِهِمَا ذُلِكَ خَيْرٌ وَ اَقْرَبُ میں نہ جاؤ یہ بات بہتر اور تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔لِلتَّقْوَى وَ قَد وَصَفَهُمُ اللهُ بِالْقَائِمِينَ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ وہ وَالسَّاجِدِينَ وَ الصَّافِينَ وَالْمُسَبِّحِينَ قائم ہیں۔ساجد ہیں۔صف بستہ ہیں نیز تسبیح کرنے والے وَالثَّابِتِيْنَ في مَقَامَاتٍ مَّعْلُومَةٍ وَ جَعَلَ ہیں اور اپنے معلوم مقامات میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور هذِهِ الصَّفَاتِ لَهُمْ دَائِمَةٌ غَيْرَ مُنقَكَة ان کی ان صفات کو ان کے ساتھ دائمی اور غیر منفک قرار وَخَضَهُمْ بِهَا۔فَكَيْفَ يَجُوزُ آن يُغرك دیا ہے اور ان کے وجود کو ان صفات کے ساتھ مخصوص الْمَلَائِكَةُ سُجُوْدَهُمْ وَقِيَامَهُمْ وَيَقْصَبُوا قرار دیا ہے۔پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ فرشتے اپنے سجود صُفُوفَهُمْ وَيَذَرُوا تَسْبِيحَهُمْ وَ اور قیام کو ترک کر دیں اور اپنی صفوں کو توڑ دیں اور اپنی تَقْدِيسَهُمْ وَ يَتَنَالُوا مِن مَّقَامَاتِهِمْ وَ تسبیح اور تقدیس کو چھوڑ دیں اور اپنے مقامات سے تنزل يهبطوا الْأَرْضَ وَ يَعْلُو السَّمَاوَاتِ الْعُلی اختیار کریں اور زمین پر اتر آئیں اور بلند آسمانوں کو خالی بَلْ هُمْ يَتَحَرِّكُونَ حَال گوییم کردیں۔بلکہ ان کی حرکت اس صورت میں ہوتی ہے کہ مُسْتَقِرِيْنَ فِي مَقَامَاتِهِمُ الْمَلِكِ الذى وہ اپنے مقامات پر اس بادشاہ کی طرح قائم رہتے ہیں جو ا