تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 121

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۱ سورة المدتّر عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى وَ تَعْلَمُونَ اَنَّ اپنے عرش پر قرار فرما ہو۔پھر تم کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ الله يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاء في آخر كُلِّ لَيْلِ ہر رات کے آخری حصہ میں آسمان سے نزول فرماتا ہے اور یہ وَلَا يُقَالُ إِنَّهُ يَتْرُكُ الْعَرْشَ ثُمَّ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عرش کو چھوڑ دیتا ہے۔پھر دوسرے اوقات يَصْعَدُ إِلَيْهِ فِي أَوْقَاتٍ اُخری میں اس کی طرف صعود فرماتا ہے۔اسی طرح ملائکہ کا حال ہے فَكَذَلِكَ الْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ كَانُوا فِي جو اپنے خدا کی صفات میں اسی طرح رنگین ہیں جس طرح سایہ صِبْغَةِ صِفَاتِ ربم گیفلِ اپنے اصل کا رنگ رکھتا ہے۔ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے الصباغ الظل يصِبْغَةِ أَصْلِهِ لا لیکن اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر ہم ان کے حالات کو کس نَعْرِفُ حَقِيْقَعَهَا وَنُؤْمِنُ بِهَا۔كَيْفَ طرح ایسے انسان کے حالات سے مشابہ قرار دے سکتے ہیں نُشَبَّهُ أَحْوَالَهُمْ بِأَحْوَالِ اِنْسَانِ جس کی صفات کی حقیقت کو ہم جانتے ہیں۔اس کی خاصیتوں نَعْرِفُ حَقِيْقَةً صِفَاتِهِ وَحُدُودِ کی حدود۔سکنات اور حرکات کو جانتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے خَوَاتِهِ وَ سَكَنَاتِهِ وَ حَرَكَاتِهِ وَ قَدْ ہمیں فرشتوں کی حقیقت میں جانے سے منع فرمایا ہے اور کہا مَنَعَنَا اللهُ مِنْ هَذَا وَ قَالَ وَمَا يَعْلَمُ ہے مَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا ھو کہ اللہ کے لشکروں کو اس کے جُنُودَ رَبَّكَ إِلَّا هُوَ فَاتَّقُوا الله یا سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اے عقلمند و! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔(ترجمہ از مرتب) أَرْبَاب النُّهى۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۸۴ تا ۳۸۷)