تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 100
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المزمل ہماری باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں اور کہتے کہ یہ سب کچھ بیجا اور درست ہے مگر جب ان سے کہا جاوے کہ پھر تم اس کو قبول کیوں نہیں کرتے تو وہ یہی کہیں گے کہ لوگ ہم کو برا کہتے ہیں۔پس یہ خیال کہ لوگ اس کو برا کہتے ہیں یہی ایک رگ ہے جو خدا سے قطع کراتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں ہو اور اس کی عظمت اور جبروت کی حکومت کے ماتحت انسان ہو پھر اس کو کسی دوسرے کی پروا کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کیا کہتا ہے کیا نہیں؟ ابھی اس کے دل میں لوگوں کی حکومت ہے نہ خدا کی۔جب یہ مشرکانہ خیال دل سے دور ہو جاوے پھر سب کے سب مردے اور کیڑے سے بھی کمتر اور کمزور نظر آتے ہیں۔اور اگر ساری دنیامل کر بھی مقابلہ کرنا چاہیے تو ممکن نہیں کہ ایسا شخص حق کو قبول کرنے سے رک جاوے۔تبتل تام کا پورانمونہ انبیاءعلیہم السلام اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح دنیا داروں کی مخالفتوں کے باوجود پوری بیکسی اور ناتوانی کے پروا تک نہیں کرتے۔ان کی رفتار اور حالات سے سبق لینا چاہیے۔بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ ایسے لوگ جو برا نہیں کہتے مگر پورے طور پر اظہار بھی نہیں کرتے محض اس وجہ سے کہ لوگ برا کہیں گے کیا ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں ؟ میں کہتا ہوں ہرگز نہیں اس لئے کہ ابھی تک ان کے قبولِ حق کی راہ میں ایک ٹھوکر کا پتھر ہے اور وہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔اگر وہ دنیا داروں کو اپنا معبود اور قبلہ نہ سمجھتے تو ان سارے حجابوں کو چیر کر باہر نکل آتے اور کسی کے لعن طعن کی ذرا بھی پروانہ کرتے اور کوئی خوف شماتت کا انہیں دامنگیر نہ ہوتا بلکہ وہ خدا کی طرف دوڑتے۔پس یا د رکھو کہ تم ہر کام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوق خدا۔جب تک یہ حالت نہ ہو جاوے کہ خدا کی رضا مقدم ہو جاوے اور کوئی شیطان اور رہزن نہ ہو سکے اس وقت تک ٹھوکر کھانے کا اندیشہ ہے لیکن جب دنیا کی برائی بھلائی محسوس ہی نہ ہو بلکہ خدا کی خوشنودی اور ناراضگی اس پر اثر کرنے والی ہو۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے خوف و حزن کے مقامات سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں شامل ہو کر پھر اس سے نکل بھی جاتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا شیطان اس لباس میں ہنوز اس کے ساتھ ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ عزم کر لے کہ آئندہ کسی وسوسہ انداز کی بات کوسنوں گا ہی نہیں تو خدا اسے بچا لیتا ہے۔ٹھوکر لگنے کا عموما یہی سبب ہوتا ہے کہ دوسرے تعلقات قائم تھے۔ان کو پرورش کے لئے ضرورت پڑی کہ ادھر سے ست ہوں سستی سے اجنبیت پیدا ہوئی پھر اس سے تکبر اور پھر انکار تک