تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 101

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+1 سورة المزمل نوبت پہنچی۔قتل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔نہ آپ کو کسی کی مدح کی پروانہ زم کی۔کیا کیا آپ کو تکالیف پیش آئیں۔مگر کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔کوئی لالچ اور طمع آپ کو اس کام سے نہ روک سکا جو آپ خدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کر لے اور امتحان میں پاس نہ ہوئے کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔پھر یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ جو شخص مستقبل ہوگا متوکل بھی وہی ہوگا۔گو یا متوکل ہونے کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے کیونکہ جب تک اوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اور تکیہ کرتا ہے اس وقت تک خالصہ اللہ پر توکل کب ہو سکتا ہے۔جب خدا کی طرف انقطاع کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جبکہ کامل تو کل ہو۔جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متجبل تھے ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے اور یہ وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم و قبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔آپ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا اسی لئے اس قدر عظیم انشان بو جھ کو آپ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی یہ بڑا نمونہ ہے تو کل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کونہ دیکھ لے۔جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنا دے گا۔جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تو تبتل ہے اور پھر تمبتل اور توکل توام ہیں۔سمبل کا راز ہے تو کل اور توکل کی شرط ہے تبتل۔یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر۳۷ مورخہ ۱۰ راکتو بر ۱۹۰۱ صفحه ۱تا۳) تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا لِلہ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آجاوے کہ تبلُ إِلَيْهِ تَبْتِیلا کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو۔یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو نا پنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا ود