تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 99
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة المزمل بات سے نہیں ہو سکتا۔جب تک عمل اس کے ساتھ نہ ہو اور عملی طور پر صحیح ثابت نہیں ہوتا جب تک امتحان ساتھ نہ ہو ہمارے ہاتھ پر بیعت تو یہی کی جاتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور ایک شخص کو جسے خدا نے اپنا مامور کر کے دنیا میں بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے جس کا نام حکم اور عدل رکھا گیا ہے اپنا امام سمجھوں گا۔اس کے فیصلے پر ٹھنڈے دل اور انشراح قلب کے ساتھ رضامند ہو جاؤں گا لیکن اگر کوئی شخص یہ عہد اور اقرار کرنے کے بعد بھی ہمارے کسی فیصلے پر خوشی کے ساتھ رضا مند نہیں ہوتا بلکہ اپنے سینہ میں کوئی روک اور اٹک پاتا ہے تو یقینا کہنا پڑے گا کہ اس نے پورا تعبیل حاصل نہیں کیا اور وہ اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جو تنبل کا مقام کہلاتا ہے بلکہ اس کی راہ میں ہوائے نفس اور دنیوی تعلقات کی روکیں اور زنجیریں باقی ہیں اور ان حجابوں سے وہ باہر نہیں نکلا جن کو پھاڑ کر انسان اس درجہ کو حاصل کرتا ہے جب تک وہ دنیا کے درخت سے کاٹا جا کر الوہیت کی شاخ کے ساتھ ایک پیوند حاصل نہیں کرتا اس کی سرسبزی اور شادابی محال ہے۔دیکھو جب ایک درخت کی شاخ اس سے کاٹ دی جاوے تو وہ پھل پھول نہیں دے سکتی خواہ اسے پانی کے اندر ہی کیوں نہ رکھو اور ان تمام اسباب کو جو پہلی صورت میں اس کے لئے مایہ حیات تھے استعمال کرو۔لیکن وہ کبھی بھی بار آور نہ ہوگی۔اسی طرح پر جب تک ایک صادق کے ساتھ انسان کا پیوند قائم نہیں ہوتا وہ روحانیت کو جذب کرنے کی قوت نہیں پاسکتا جیسے وہ شاخ تنہا اور الگ ہو کر پانی سے سرسبز نہیں ہوتی اسی طرح پر یہ بے تعلق اور الگ ہو کر بار آور نہیں ہوسکتا۔پس انسان کو منتقل ہونے کے لئے ایک قطع کی ضرورت بھی ہے اور ایک پیوند کی بھی۔خدا کے ساتھ اسے پیوند کرنا اور دنیا اور اس کے تمام تعلقات اور جذبات سے الگ بھی ہونا پڑے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل دنیا سے الگ رہ کر یہ تعلق اور پیوند حاصل کرے گا۔نہیں۔بلکہ دنیا میں رہ کر پھر اس سے الگ رہے یہی تو مردانگی اور شجاعت ہے اور الگ ہونے سے مراد یہ کہ دنیا کی تحریکیں اور جذبات اس کو اپنا زیر اثر نہ کر لیں اور وہ ان کو مقدم نہ کرے بلکہ خدا کو مقدم کرے۔دنیا کی کوئی تحریک اور روک اس کی راہ میں نہ آوے اور اپنی طرف اس کو جذب نہ کر سکے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ دنیا میں بہت سی روکیں انسان کے لئے ہیں۔ایک جور و یا بیوی بھی بہت کچھ ر ہرن ہو سکتی ہے خدا نے اس کا نمونہ بھی پیش کیا ہے۔خدا نے ایک نہی کی تعلیم دی تھی اس کا اثر پہلے عورت پر ہوا پھر آدم پر ہوا۔غرض تجمل کیا ہے؟ خدا کی طرف انقطاع کر کے دوسروں کو محض مردہ سمجھ لینا۔بہت سے لوگ ہیں جو