تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 88
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۸ سورة الجن جاتا ہے یہ کیوں عقل کی دریافت سے باہر رہ گیا ہے۔ اور جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں یہ بات بھی نہیں کہ اس بھید کے تسلیم کرانے کے لیے عقل پر سراسر جبر ہے بلکہ جس حد تک عقل انسانی اپنے وجود میں طاقت فہم رکھتی ہے وہ اپنی اس حد کے مناسب حال اس بھید کو تسلیم کرتی ہے انکار نہیں کرتی کیونکہ عقل سلیم کو وجود ملائکہ اور ان کی خدمات مفوضہ کے تسلیم کرنے کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ یہ تساقط شہب بھی ملائکہ کے ذریعہ سے ظہور میں آتا ہے اور ملائکہ کسی غرض اور مقصد کے لیے اس فعل کو بحکم مولی کریم بجالاتے ہیں ۔ پس عقل سلیم کا اسی قدر ماننا اس کی ترقی کے لیے ایک زینہ کی طرح ہے اور بلا شبہ اس قدر تسلیم کے بعد عقل سلیم تساقط شہب کو دہریوں اور طبیعیوں کی عقول نا قصہ کی طرح ایک امر عبث خیال نہیں کرے گی بلکہ تعین کامل کے ساتھ اس رائے کی طرف جھکے گی کہ در حقیقت یہ حکیمانہ کام ہے جس کے تحت میں مقاصد عالیہ ہیں اور اس قدر علم کے ساتھ عقل سلیم کو اس بات کی حرص پیدا ہوگی کہ ان مقاصد عالیہ کو مفصل طور پر معلوم کرے پس یہ حرص اور شوق صادق اس کو کشاں کشاں اس مرشد کامل کی طرف لے آئے گا جو وحی قرآن کریم ہے۔ ہاں ا اگر عقل سلیم کچھ بحث اور چوں چرا کر سکتی ہے تو اس موقعہ پر تو نہیں لیکن ان مسائل کے ماننے کے لیے بلاشبہ اول اس کا یہ حق ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود میں جس کی سلطنت تبھی قائم رہ سکتی ہے کہ جب ہر یک ذرہ عالم کا اس کا تابع ہو بحث کرے۔ پھر ملائک کے وجود پر اور ان کی خدمات پر دلائل شافیہ طلب کرے یعنی اس بات کی پوری پوری تسلی کر لیوے کہ در حقیقت خدا تعالیٰ کا انتظام یہی ہے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام اور کا ئنات الجو میں ہو رہا ہے یا بھی بھی ظہور میں آتا ہے۔ وہ صرف اجرام اور اجسام کے افعال شتر بے مہار کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کے تمام واقعات کی زمام اختیار حکیم قدیر نے ملائک کے ہاتھ میں دے رکھی ہے جو ہر دم اور ہر طرفۃ العین میں اس قادر مطلق سے اذن پا کر انواع اقسام کے تصرفات میں مشغول ہیں اور نہ عبث طور پر بلکہ سراسر حکیمانہ طرز سے بڑے بڑے مقاصد کے لیے اس کرہ ارض و سما کو طرح طرح کی جنبشیں دے رہے ہیں اور کوئی فعل بھی ان کا بے کار اور بے معنی نہیں ۔ اور ہم فرشتوں کے وجود اور ان کی ان خدمات پر کسی قدر اسی رسالہ میں بحث کر آئے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ فرشتوں کا وجود ماننے کے لیے نہایت سہل اور قریب راہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کی توجہ اس طرف مبذول کریں کہ یہ بات طے شدہ اور فیصل شدہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ظاہری تربیت اور تکمیل کے لئے اور نیز اس کام کے لیے کہ تا ہمارے ظاہری حواس کے افعال مطلوبہ کما ینبغی صادر ہو سکیں خدا تعالیٰ نے یہ قانون