تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 87
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة الجن بات کا اقرار کرے گی کہ یہ تمام تغییرات اور حدوثات جو عالم سفلی اور علوی میں ہمیں نظر آتے ہیں عبث اور بے ہودہ اور لغو نہیں بلکہ ان میں مقاصد اور اغراض پوشیدہ ہیں گو ہم ان کو سمجھ سکیں یا ہماری سمجھ اور فہم سے بالا تر ہوں۔اور اس اقرار کے ضمن میں تساقط شہب کی نسبت بھی یہی اقرار عقل سلیم کو کرنا پڑے گا کہ یہ کام بھی عبث نہیں کیونکہ یہ بات بداہتا ممتنع ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جو نفوس ارادہ اور فہم اور تدبیر اور حکمت کے پابند ہیں وہ ایک اغو کام پر ابتدا سے اصرار کرتے چلے آئے ہیں۔سو اگر چہ عقل پورے طور پر اس بستر کو دریافت نہ کر سکے مگر وجود ملائک اور ان کی منصبی خدمات کے ماننے کے بعد اس قدر تو ضر ور دریافت کر لے گی کہ ان کا کوئی فعل عبث اور بے ہودہ طور پر نہیں۔اس اقرار کے بعد اگر چه عقل مفصلاً تساقط شہب کی ان اغراض کو دریافت نہ کر سکے جو ملائک کے ارادہ اور ضمیر میں ہیں لیکن اس قدر جمالی طور پر تو ضرور سمجھ جائے گی کہ بے شک اس فعل کے لیے بھی مثل اور افعال ملائکہ کے در پردہ اغراض و مقاصد ہیں پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے اس تفصیل کے لیے کسی اور ذریعہ کے محتاج ہوگی جو حدود عقل سے بڑھ کر ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے کہ تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجرد عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے۔اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقدہ کھول دیا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔یعنی یہ ایک قسم کا انتشار نورانیت ملائک کے ہاتھ سے اور ان کے نور کی آمیزش سے ہے جس کا جنات کی ظلمت پر اثر پڑتا ہے اور جنات کے افعال مخصوصہ اس سے رو بھی ہو جاتے ہیں اور اگر اس انتشار نورانیت کی کثرت ہو تو بوجہ نور کے مقناطیسی جذب کے مظاہر کاملہ نورانیت کے انسانوں میں سے پیدا ہوتے ہیں ورنہ یہ انتشار نورانیت بوجہ اپنی ملکی خاصیت کے کسی قدر دلوں کو نور اور حقانیت کی طرف کھینچتا ہے اور یہ ایک خاصیت ہے جو ہمیشہ دنیا میں انی طور پر اس کا ثبوت مانتا رہا ہے۔دنیا میں ہزار ہا چیزوں میں ایسے خواص پائے جاتے ہیں جو انسان کی عقل سے برتر ہوتے ہیں اور انسان کوئی عقلی دلیل ان پر قائم نہیں کر سکتا اور ان کے وجود سے بھی انکار نہیں کرسکتا۔پھر اس خاصیت ثابت شدہ کا صرف اس بنیاد پر انکار کرنا کہ عقل اس کے سمجھنے سے قاصر ہے اگر نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔کیا انسانی عقل نے تمام ان خواص دقیقہ پر جو اجسام اور اجرام میں پائے جاتے ہیں دلائل عقلی کی رو سے احاطہ کر لیا ہے؟ تا اس اعتراض کا حق پیدا ہو کہ تساقط شہب کی نسبت جو انتشار نورانیت کا بھید بیان کیا