تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 54
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة الزمر بِاِمْتِقَالِ اَمْرِ الهِهِمْ وَيَجِدُونَ لَنَّةً وَحَلَاوَةً امرکی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور فِي طَاعَةِ مَوْلَاهُمْ وَهَذَا هُوَ الْمُنْتَهَى الَّذِى اپنے مولیٰ کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے پس يَنعَنِى إِلَيْهِ أَمْرُ الْعَابِدِينَ وَالْمُطِيعِيْنَ عابدوں اور مطیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالی ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے۔فَيُبَدِّلُ اللهُ آلَامَهُمْ بِاللَّذَّاتِ (ترجمہ از ایڈیٹر (الحق) الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۸،۳۷) قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے۔رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہریک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آب پاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔اور تمام قولی کی مربی ہیں نہ کسی ایک قوت کی۔اور در حقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے کتبا مُتَشَابِهَا۔پھر بعد اس کے مَثَانِي کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونو طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر عظمت حق کی بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کے سننے سے اُن کے دلوں پر قشعریرہ پڑ جاتا ہے اور پھر اُن کی جلد میں اور اُن کے دل یاد الہی کے لئے یہ نکلتے ہیں۔کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۵۹،۵۸) اس سے خدا خوف بندوں کی جلد میں کانپتی ہیں پھر ان کی جلد میں اور ان کے دل ذکر الہی کے لئے نرم ہو ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۰ حاشیه ) جاتے ہیں۔إِنَّكَ مَيِّنٌ وَ إِنَّهُمْ مَيْتُونَ۔خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ دوبارہ دُنیا میں لوگوں کو بھیجا کرے ورنہ ہمیں تو عیسی کی نسبت حضرت سید نا محمد مصطفے کے دوبارہ دُنیا میں آنے کی زیادہ ضرورت تھی اور اسی میں ہماری خوشی تھی مگر خدا تعالیٰ نے انك ميت کہہ کر اس امید سے محروم کر دیا۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲)