تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 55

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الزمر اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوَفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا - له مِن هَادِه اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عبدی کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۶ حاشیه در حاشیه ۳) میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کی وفات کا جب وقت قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی وفات سے مجھے ان الفاظ عزا پر سی کے ساتھ خبر دی وَ السَّمَاءِ وَالطارق یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آئے گا۔اور چونکہ ان کی زندگی سے بہت سے وجوہ معاش ہمارے وابستہ تھے اس لئے بشریت کے تقاضا سے یہ خیال دل میں گزرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہوگی۔کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جو ان کی زندگی سے وابستہ تھی۔اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَ؛ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔تب وہ خیال یوں اُڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اُڑ جاتی ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۹۸) کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۹) وہ خود اپنے بندے کے لئے کافی ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۹۶) و يخوفونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ اور کافر تجھے خدا کے سوا اور چیزوں سے ڈراتے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۰ حاشیہ نمبر۱۱) لا قُلْ يُقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ) کہہ اے میری قوم تم بجائے خود کام کرو اور میں بجائے خود کام کرتا ہوں۔سو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس پر اسی دُنیا میں عذاب نازل ہوتا ہے کہ جو اس کو رسوا کرے اور کس پر جاودانی عذاب نزول کرتا ہے یعنی آخرت کا عذاب۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۳ حاشیہ نمبر ۱۱) اللهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي