تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 53
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة الزمر يَهْدِى بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ يَعْنِى ذَالِكَ الْكِتَابُ كِتَابٌ یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین مُتَشَابِه يَشْبَهُ بَعْضُهُ بَعْضًا لَيْسَ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور فِيْهِ تَنَاقُضٌ وَلَا اِخْتِلَافُ مَثْنى فيه اختلاف نہیں۔ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہرا دو ہرا کر بیان کی كُلُّ ذِكْرٍ لِيَكُونَ بَعْضُ الذِكرِ گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے تَفْسِيرًا لِبَعْضِهِ تَقْشَعِرُ مِنْهُ جُلُودُ مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔اس کے پڑھنے سے ان - 1 الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم يَعْنِي يَسْتَوْلِى لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے جَلالُهُ وَهَيْبَتُه عَلى قُلُوبِ الْعُشّاقِ کھڑے ہو جاتے ہیں۔یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت لِتَقْشَعِرُّ جُلُودُهُمْ مِنْ كَمَالِ الْخَشْيَةِ عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اس لئے کہ ان کی وَالْخَوْفِ يُجَاهِدُونَ فِي طَاعَةِ اللهِ لَيْلًا کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہوجائیں وَنَهَارًا بِتَحْرِيكِ تَأْثِيرَاتٍ جَلَالِيَّةٍ وَ وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے تَلْبِيهَاتٍ قَهْرِيَّةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ رات دن اللہ تعالی کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے يُبيّلُ الله العَهُم من الشَّامِ اِلی ہیں پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس الللُّةِ فَيَصِيرُ الطَّاعَةُ جُزو حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت وسرور سے طَبِيعَتِهِمْ وَ خَاصَّةً فِطْرَتِهِمْ فَتَلِينُ بدل ڈالتا ہے۔چنانچہ اس وقت طاعت الہی ان کی جزء بدن جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إلى ذکر اللہ اور خاصہ فطرت ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان يَعْنِي لِيَسِيلَ الذِّكْرُ في قُلُوهِمْ کے دلوں اور بدنوں پر رقت اور لینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر كَسَيَلانِ الْمَاء وَيَصْدُرُ مِنْهُمْ كُلُّ ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر محل آمرٍ في طَاعَةِ اللهِ بِكَمَالِ السُّهُولَة بات طاعت الہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی وَالصَّفَاءِ لَيْسَ فِيْهِ ثِقُل وَلَا تَكلُّف سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے وَلَا ضَيْقَ فِي صُدُورِهِمْ بَلْ يَتَلَذَّذُونَ سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے