تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 40
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰ سورة ص مومنوں کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے ۔ یاد رہے کہ اگر صرف روحیں ہوتیں تو اُن کے لئے لھم کی ضمیر نہ آتی ۔ پس یہ قرینہ قویہ اس بات پر ہے کہ بعد موت جو مومنوں کا رفع ہوتا ہے وہ مع جسم ہوتا ہے مگر یہ جسم خاکی نہیں ہے بلکہ مومن کی روح کو ایک اور جسم ملتا ہے جو پاک اور نورانی ہوتا ہے اور اس دکھ اور عیب سے محفوظ ہوتا ہے جو عنصری جسم کے لوازم میں سے ہے یعنی وہ ارضی غذاؤں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور نہ زمینی پانی کا حاجت مند ہوتا ہے اور وہ تمام لوگ جن کو خدا تعالیٰ کی ہمسائیگی میں جگہ دی جاتی ہے ایسا ہی جسم پاتے ہیں ۔ اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نے بھی وفات کے بعد ایسا ہی جسم پایا تھ ایسا ہی جسم پایا تھا اور اسی جسم کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ (براہین احمد یہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۱٬۴۰۰) اگر مسیح کے صعود إلى السماء سے یہ غرض تھی کہ وہ اس لعنت سے بچ رہیں تو اس رفع کے لئے ضروری ہے کہ پہلے موت ہو کیونکہ یہ رفع وہ ہے جو قرب الہی کا مفہوم ہے اور بعد موت ملتا ہے اسی لئے إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى (ال عمران : ۵۶ ) کہا گیا اور یہ وہی رفع ہے جو ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ( الفجر : ٢٩) میں خدا نے بیان فرمایا ہے اور مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ سے پایا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۵) یہ خوب یادر ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر روح بلا جسم ہر گز نہیں مانتے ۔ ہم مانتے ہیں کہ وہ وہاں جسم ہی کے ساتھ ہیں ۔ ہاں فرق اتنا ہے کہ یہ لوگ جسم عنصری کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ جسم و ہی جسم ہے جو دوسرے رسولوں کو دیا گیا۔ دوزخیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : (۴۱) یعنی کافروں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاویں گے اور مومنوں کے لئے فرماتا ہے مُفَتَحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ۔ اب ان آیات میں لھم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب کے سب پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں؟ نہیں۔ ایسا نہیں۔ جسم تو ہوتے ہیں مگر وہ وہ جسم ہیں جو مرنے کے بعد دیئے جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۹،۸) - سچی بات یہی ہے کہ مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات در رفع روحانی ہوا کرتا ہے اور یہی قابل بڑائی بات ہے رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی اس میں فضیلت مد نظر ہے چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اصولوں کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الأبواب یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لئے آسمانی رحمت کے