تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 39
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة ص سمجھ میں آتی جاویں انہیں پیش کئے جاؤ وہ کسی نہ کسی کو فائدہ پہنچائیں گی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۴ء صفحه ۶) انبیاء علیہم السلام کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے أولي الأيدنى و الابصار جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کام کرنے والے اور دیکھ بھال کر ان راہوں کی طرف بلاتے تھے جن پر خدا تعالیٰ نے انہیں قائم کیا تھا اور وہ تصورات کے پیچھے لگنے والے اور خیالی آدمی نہ تھے وہ عملی آدمی تھے اور علی وجہ البصیرت حق کی طرف الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۹،۸) بلاتے تھے۔هذا ذكر وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَابِ جَنْتِ عَدْنٍ مُفَتَحَةٌ لَهُمُ الأبواب ط رفع تمام انبیاء اور رسل اور مومنوں میں عام ہے۔مرنے کے بعد ہر ایک مومن کا رفع ہوتا ہے۔چنانچہ آیت هَذَا ذِكرَ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَأْبٍ - جَنْتِ عَدْنٍ مُفَتَحَةٌ لَهُمُ الْأَبْوَابُ میں اس رفع کی - طرف اشارہ ہے لیکن کا فر ک رفع نہیں ہوتا چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ اس کی طرف اشارہ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۱۷) کرتی ہے۔مُفَتَحَةً لَهُمُ الابواب یعنی مومنوں کے لئے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰) حضرت عیسی کے رفع کو رفع جسمانی ٹھہرانا سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے بلکہ یہ وہی رفع ہے جو ہر ایک مومن کے لئے وعدہ الہی کے موافق موت کے بعد ہونا ضروری ہے اور کافر کے لئے حکم ہے کہ لا تُفتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف: ۴۱) یعنی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کا رفع نہیں ہوگا جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے مُفَتَحَةٌ لَهُمُ الأبواب۔پس سیدھی بات کو الٹا دینا تقویٰ اور طہارت کے برخلاف اور ایک طور سے تحریف کلام الہی ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۵) پاک لوگ دوسرے جسم کے ساتھ آسمان پر جا سکتے ہیں جیسا کہ تمام نبیوں اور رسولوں اور مومنوں کی روحیں وفات کے بعد آسمان پر جاتی ہیں اور انہیں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ _ یعنی