تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 41

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة ص دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جولوگ بدکار اور خدا سے دُور ہوتے ہیں اور ان کو خدا سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا ان کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرما یا لا تُفتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف : ٤١) الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۲۲ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۲) وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ ہمیں کیا ہو گیا کہ دوزخ میں ہمیں وہ لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ہم شریر سمجھتے تھے۔دُنیا نے ہمیشہ خدا کے ماموروں سے دشمنی کی۔کیونکہ دُنیا سے پیار کرنا اور خدا کے مرسلوں سے پیار کرنا ہرگز ایک جگہ جمع نہیں لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۸) ہو سکتا۔دوزخی یا بہشتی ہونے کی اصل حقیقت تو مرنے کے بعد ہر ایک کو معلوم ہوگی جس وقت بعض بصد حسرت دوزخ میں پڑے ہوئے کہیں گے۔مَا لَنَا لَا نَى رِجَالًا كُنَّا نَعُتُهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۰۲) إذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّى خَالِقُ بَشَرًا مِنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ لا مِنْ رُوحي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَبِكَةُ كُلُهُم اَجْمَعُونَ ) إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ b فتفكر في آيَةٍ فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ وَتَدَبَّرُ سو عقلمندوں کی طرح لفظ فَقَعُوا لَهُ سُجِدِينَ كَأُولِي النُّهى، وَفَكِّر في لفظ خَلَقْتُ بِيَدَ میں غور کر اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خَلَقْتُ بیدائی اور وَلَفظ سَوَيْتُه وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحَى وَأَلْفَاطٍ سَوَيْتُه اور نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِی ہے اور دوسرے أُخْرَى لِيَظْهَرَ عَلَيْكَ جَلَالَهُ آدَمَ وَشَانُهُ لفظوں کو بھی سوچ تا کہ تیرے پر حضرت آدم کی شان الأعلى۔فَإِنَّ مَنطوقَ الْآيَةِ يَتْلُ عَلى أَنَّ اعلیٰ ظاہر ہو کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ رُوحَ الله نَزَلَ فِي آدَمَ بِنُزُولٍ أَجْلى حَتَّى روح الله آدم میں اترا تھا اور وہ اترنا بہت روشن تھا جَعَلَهُ مَسْجُوْدَ الْمَلَائِكَةِ وَمَظهَرَ تَجَلِيَاتٍ یہاں تک کہ آدم ملائکہ کا سجدہ گاہ ٹھہرا اور تجلیات عظمی