تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 32

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲ سورة الصفت ظلمت کے نیچے آ جاتی اور ایسی دب جاتی ہے کہ گویا اُس کا کچھ بھی وجود نہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۰ تا۹۷) محققین اہل اسلام ہر گز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اتر تے ہیں اور یہ خیال بہداہت باطل بھی ہے۔کیوں کہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجا آوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سکینڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلا دو امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔اگر ہریک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہر گز نہیں بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدائے تعالی کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالی ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا مِنَّا إِلا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَ إِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُونَ۔پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر یک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ اُن کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے اُن کو نامزد کریں یا نہایت سید ھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں۔در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور یہ حکمت کا ملہ خداوند تعالی زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجالاتے ہیں اور باطنی بھی۔جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔جو چیز کسی عمدہ جو ہر بنے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگر چہ خاک کا ایک ٹکڑا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی