تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 33
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣ سورة الصفت تربیت سے لعل اور الماس اور یا قوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل توضیح مرام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۶ تا ۶۸ ) اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔وَمَقَامَاتُ الْمَلَائِكَةِ فِي السَّمَاوَاتِ | اس میں کوئی شک نہیں کہ آسمانوں میں فرشتوں کے ثَابِتَةٌ لَا رَيْبَ فِيْهَا كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ مقامات ثابت ہیں جیسا کہ اللہ عزوجل نے ان کی طرف حِكَايَةً عَنْهُمْ وَمَا مِنَّا إِلا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُومٌ سے حکایتاً بیان فرمایا ہے وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُومٌ وَمَا نَرَى فِي الْقُرْآنِ ايَةٌ تُشِيرُ إِلى أَنَّهُمْ اور ہم قرآن کریم میں ایک بھی آیت ایسی نہیں پاتے جو يَتْرُكُونَ مَقَامَاتِهِمْ فِي وَقتٍ مِن اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہو کہ فرشتے اپنے مقامات کو الْأَوْقَاتِ، بَلِ الْقُرْآنُ يُشير إلى أنهم لا کسی وقت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ قرآن کریم اس بات کی يَتْرُكُونَ مَقَامَاتِهِمُ الَّتِي ثَبَّتَهُمُ اللهُ طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ ان مقامات کو جن پر اللہ تعالیٰ عَلَيْهَا، وَمَعَ ذَلِكَ يَنزِلُوْنَ إِلَى الْأَرْضِ نے ان کو قائم کیا ہے نہیں چھوڑتے اور اس کے باوجود وہ وَيُدْرِكُونَ أَهْلَهَا بِإِذْنِ اللہ تعالی زمین پر اترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے زمین وَيَتَبَرَّزُونَ في بَرَزَاتٍ كَثِيرَةٍ فَتَارَةُ والوں سے ملاقات کرتے ہیں اور مختلف شکلوں میں ظاہر يَتَمَكَّلُونَ لِلانْبِيَاء في صُورِ بنی آدم ہوتے ہیں۔کبھی تو وہ انبیاء کے لئے بنی آدم کی شکل میں وَمَرَّةٌ يَتَرَاءُونَ كَالتُورٍ، وَكَرَّةً يَرَاهُمْ أَهْلُ ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی وہ نور کی طرح نظر آتے ہیں اور الْكَشفِ كَالأَطفَالِ وَأُخرى كالأَمَارِدِ کبھی ان کو اہل کشف بچوں اور بے ریش نو جوانوں کی وَيَخْلُقُ لَهُمُ اللهُ فِي الْأَرْضِ أَجْسَادًا شکل میں دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے زمین میں ان جَدِيدَةً غَيْرَ أَجْسَادِهِمُ الْأَصْلِيَّةِ کے اصلی وجودوں کے علاوہ نئے وجود اپنی لطیف اور محیط بقدرتِهِ اللَّطِيفَةِ الْمُحِيْطَةِ، وَمَعَ ذلِك قدرت سے پیدا کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آسمانوں تَكُونُ لَهُمْ أَجْسَادُ فِي السَّمَاءِ ، وَهُمْ لا میں بھی ان کے اجسام ہوتے ہیں اور وہ ان سماوی اجسام يُفَارِقُونَ أَجْسَادَهُمُ السَّمَاوِيَّةَ وَلاً سے علیحدہ نہیں ہوتے اور اپنے مقامات سے نہیں ہٹتے اور يَبْرَحُوْنَ مَقَامَاتِهِمْ، وَيَجِينُونَ الْأَنْبِيَاءَ انبیاء پر اور دوسرے سب لوگوں کی طرف جن کی طرف وہ وَكُلٌّ مَن أُرْسِلُوا إِلَيْهِ مَعَ أَنَّهُمْ لَا بھیجے جاتے ہیں، نازل ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے اصل ، يَتْرُكُونَ الْمَقَامَاتِ وَهَذَا سِر من أسرار مقامات کو نہیں چھوڑتے اور یہ بات اللہ تعالی کے بھیدوں