تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 31

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱ سورة الصفت ساتھ آنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں اور ایسا ہی پھر آسمان پر اُن کا اپنے اصلی وجود کے ساتھ چڑھ جانا بھی اپنے زعم میں یقینی اعتقادر رکھتے ہیں اور اگر کوئی اصلی وجود کے ساتھ اتر نے یا چڑھنے سے انکار کرے تو وہ اُن کے نزدیک کافر ہے ان عجیب مسلمانوں کے عقیدہ کو یہ بلا لازم پڑی ہوئی ہے کہ وہ اعتدالی نظام جس کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں یعنی بد قرین کے مقابل پر نیک قرین کا دائمی طور پر انسان کے ساتھ رہنا ایسے اعتقاد سے بالکل درہم برہم ہو جاتا ہے اور صرف شیطان ہی دائمی مصاحب انسان کا رہ جاتا ہے کیونکہ اگر فرشتہ روح القدس کسی پر مسافر کی طرح نازل بھی ہوا تو بموجب ان کے عقیدہ کے ایک دم یا کسی اور بہت تھوڑے عرصہ کے لئے آیا اور پھر اپنے اصلی وطن آسمان کی طرف پرواز کر گیا اور انسان کو گو وہ کیسا ہی نیک ہو شیطان کی صحبت میں چھوڑ گیا۔کیا یہ ایسا اعتقاد نہیں جس سے اسلام کو سخت دھبہ لگے کیا خداوند کریم و رحیم کی نسبت یہ تجویز کرنا جائز ہے کہ وہ انسان کی تباہی کو بہ نسبت اُس کے ہدایت پانے کے زیادہ چاہتا ہے نعوذ باللہ ہرگز نہیں نابینا آدمی قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتا نہیں اس لئے اپنی نادانی کا الزام اس پر لگا دیتا ہے۔یہ تمام بلائیں جن سے نکلنا کسی طور سے ان علماء کے لئے ممکن نہیں اسی وجہ سے ان کو پیش آ گئیں کہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملا یک اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ضروری عقیدہ تھا کہ وہ بلا توقف آسمان پر چڑھ بھی جاتے ہیں۔ان دونوں غلط عقیدوں کے لحاظ سے یہ لوگ اس شکنجہ میں آگئے کہ اپنے لئے یہ تیسر اعقیدہ بھی تراش لیا کہ بس القرین کے مقابل پر کوئی ایسا نعم القرین انسان کو نہیں دیا گیا جو ہر وقت اس کے ساتھ ہی رہے۔پس اس عقیدہ کے تراشنے سے قرآنی تعلیم پر انہوں نے سخت تہمت لگائی اور بداندیش مخالفوں کو حملہ کرنے کا موقعہ دے دیا۔اگر یہ لوگ اس بات کو قبول کر لیتے کہ کوئی فرشتہ بذات خود ہر گز نازل نہیں ہوتا بلکہ اپنے خلی وجود سے نازل ہوتا ہے جس کے تمثل کی اس کو طاقت دی گئی ہے جیسا کہ دحیہ کلبی کی شکل پر حضرت جبرائیل مستقل ہو کر ظاہر ہوتے تھے اور جیسا کہ حضرت مریم کے لئے فرشتہ متمثل ہوا تو کوئی اعتراض پیدا نہ ہوتا اور دوام نغم القرین پر کوئی شخص جرح نہ کر سکتا اور تعجب تو یہ ہے کہ ایسا خیال کرنے میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے بالکل یہ لوگ مخالف ہیں قرآن کریم ایک طرف تو ملا یک کے قرار اور ثبات کی جگہ آسمان کو قرار دے رہا ہے اور ایک طرف یہ بھی بڑے زور سے بیان فرما رہا ہے کہ روح القدس کامل مومنوں کو تائید کے لئے دائمی طور پر عطا کیا جاتا ہے اور اُن سے الگ نہیں ہوتا گو ہر ایک شخص اپنے فطرتی نور کی وجہ سے کچھ نہ کچھ روح القدس کی چمک اپنے اندر رکھتا ہے مگر وہ چمک عام لوگوں میں شیطانی