تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 21
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ كِرْتَ لَتُرْدِينِ وَ لَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكْنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ۔۵۷ سورة الصفت وَقَصَّ عَلَيْنَا قِصَّةَ رَجُلٍ مَاتَ وَدَخَلَ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس شخص کا حال بتایا ہے جو الْجَنَّةَ، وَكَانَ لَهُ صَاحِبُ فِي الدُّنْيَا فَاسِقٌ مر گیا تھا اور جنت میں داخل ہو گیا تھا۔اس کا دُنیا میں فَمَاتَ صَاحِبُةَ أَيْضًا وَدَخَلَ النّار، فَذَكَرَ ایک فاسق دوست تھا سو اس کا وہ دوست بھی مر گیا اور الَّذِي دَخَلَ الْجَنَّةَ قِصَّةَ صَاحِبِهِ عِنْدَ أَصْحَابِ جہنم میں داخل ہو گیا۔جنتی نے اپنے اس دوست کا الْجَنَّةِ وَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُّظْلِعُونَ فَاظَلَعَ فَرَاهُ قصہ اپنے جنتی دوستوں کے پاس بیان کیا اور کہا ھل في سَوَاءِ الْجَحِيمِ هَلْ اَنْتُم مُّطَلِعُونَ - اَنْتُم مُّطَّلِعُونَ - فَاطَّلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ - فَاطَّلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ - قَالَ تَاللهِ إِنْ قَالَ تَاللهِ إِنْ كِرْتَ لَتُرْدِيْنِ وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي كِرْتَ لَتُردِيْنِ وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ تَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِینَ۔اور تو جانتا ہے کہ یہ قصہ الْمُحْضَرِينَ - وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْقِضَةَ صریح طور پر دلالت کرتا ہے کہ مومن اپنی موت کے تدلُّ بِدَلَالَةٍ صَرِيحَةٍ عَلَى أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ بعد بلا توقف جنت میں داخل کئے جائیں گے اور پھر يُدخَلُونَ الْجَنَّةَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ مِنْ غَيْرِ مُكْرٍ اس سے باہر نہیں نکالے جائیں گے اور اس کی نعمتوں ثُمَّ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَيَتَنَعَمُونَ فِيهَا میں سے یہ ہمیشہ متمتع ہوتے رہیں گے۔خَالِدِينَ (ترجمه از مرتب) حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴۹) خدا کی کتاب میں نیک و بد کی جزا کے لئے دو مقام پائے جاتے ہیں۔ایک عالم برزخ جس میں مخفی طور پر ہر ایک شخص اپنی جزا پائے گا۔برے لوگ مرنے کے بعد ہی جہنم میں داخل ہوں گے۔نیک لوگ مرنے کے بعد ہی جنت میں آرام پائیں گے۔چنانچہ اس قسم کی آیتیں قرآن شریف میں بکثرت ہیں کہ بھجر دموت کے ہر ایک انسان اپنے اعمال کی جزا دیکھ لیتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ایک بہشتی کے بارے میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ حاشیہ نمبر ۱۔ترجمہ آیت۔کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو جھانک کر دیکھے کہ اس شخص کا کیا حال ہے۔پھر وہ آپ ہی حال معلوم کرنے کی کوشش کرے گا اور اپنے دُنیوی ساتھی کو جہنم میں پڑا ہوا دیکھے گا۔پھر اس سے کہے گا کہ خدا کی قسم تو تو مجھے بھی ہلاک کرنے لگا تھا اور اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی آج دوزخ کے سامنے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہوتا۔