تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الصفت قانونِ قدرت باطنی بھی ہے۔ظاہری قانون باطنی کے واسطے بطور ایک نشان کے ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنی وحی میں فرمایا ہے کہ انتَ مِنِی بِمَنْزِلَةِ الثَّاقِب یعنی تو مجھ سے بمنزلہ ثاقب ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے تجھے شیطان کے مارنے کے واسطے پیدا کیا ہے۔تیرے ہاتھ سے شیطان ہلاک ہو جائے گا۔شیطان بلند نہیں جاسکتا۔اگر مومن بلندی پر چڑھ جائے تو شیطان پھر اس پر غالب نہیں آسکتا۔مومن کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دُعا کرے کہ اس کو ایک ایسی طاقت مل جائے جس سے وہ شیطان کو ہلاک کر سکے جتنے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا دُور کرنا شیطان کو ہلاک کرنے پر منحصر ہے۔مومن کو چاہیے کہ استقلال سے کام لے ہمت نہ ہارے شیطان کو مارنے کے پیچھے پڑا ر ہے آخر وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ رحیم وکریم ہے جو لوگ اس کی راہ میں کوشش کرتے ہیں وہ آخر ان کو کامیابی کا مونہ دکھا دیتا ہے۔بڑ اور جہ انسان کا اسی میں ہے کہ وہ اپنے شیطان کو ہلاک کرے۔( بدر جلدے نمبر ۲ مورخه ۶ ارجنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۷،۶) إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَسْتَكْبِرُونَ۔(٣٦) قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کے رو سے بھی اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ۔جیسا کہ کلمہ لا إله إلا الله جو ہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ اللہ۔ولاہ سے مشتق ہے۔اور اس کے معنے ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔یہ کلمہ نہ توریت نے سکھلایا اور نہ انجیل نے۔صرف قرآن نے سکھلایا۔اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔یہی کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں میں بلند آواز سے کہا جاتا ہے جس سے عیسائی اور ہند وسب چڑتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرنا ان کے نزدیک گناہ ہے۔یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی مؤذن بلند آواز سے کہتا ہے کہ اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اور محبوب اور معبود بجز اللہ کے نہیں۔پھر دو پہر کے بعد یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔پھر عصر کو بھی یہی آواز پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے؟!! سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۶، ۳۶۷) قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ فَا طَلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ قَالَ تَاللهِ اِنْ