تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة الصفت یعنی اس کو کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو اور ایسا ہی ایک دوزخی کی خبر دے کر فرماتا ہے فَرَاهُ فِي سَوَاء الْجَحِيمِ یعنی ایک بہشتی کا ایک دوست دوزخی تھا۔جب وہ دونوں مر گئے تو بہشتی حیران تھا کہ میرا دوست کہاں ہے۔پس اس کو دکھلایا گیا کہ وہ جہنم کے درمیان ہے۔سو جزا سزا کی کارروائی تو بلا توقف شروع ہو جاتی ہے اور دوزخی دوزخ میں اور بہشتی بہشت میں جاتے ہیں۔مگر اس کے بعد ایک اور محلی اعلیٰ کا دن ہے جو خدا کی بڑی حکمت نے اس دن کے ظاہر کرنے کا تقاضا کیا ہے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا تا وہ اپنی خالقیت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر وہ سب کو ہلاک کرے گا تا کہ وہ اپنی قہاریت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر ایک دن سب کو کامل زندگی بخش کر ایک میدان میں جمع کرے گا تا کہ وہ اپنی قادریت کے ساتھ پہچانا جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۸) لا اَفَمَا نَحْنُ بِمَيَّتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔(۵۹) ، أَلَا تَرَى أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي | کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنی كِتَابِهِ الْمُحْكَمِ حِكَايَةً عَنْ مُؤْمِنٍ مُغْبِطَاً کتاب محکم میں ایک ایسے مومن کی بات حکایت بیان کی نَفْسَهُ بِمَا أَعْطَاهُ اللهُ مِنَ الْخُلْدِ فِي الْجَنَّةِ ہے جو اپنے نفس کو اس لحاظ سے قابل رشک قرار دے رہا وَالْإِقَامَةِ فِي دَارِ الْكَرَامَةِ بِلَا مَوْتٍ أَفَمَا تھا کہ اللہ نے اسے دائمی جنت عطا کی اور اسے عزت کی نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى وَ مَا نَحْنُ جگہ میں بلا موت ٹھہرنا نصیب کیا۔وہ کہتا تھا أَفَمَا نَحْنُ بمعد بين إن هذا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ فَانْظُرُ بِمَيْتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ إِنَّ أَيُّهَا الْعَزِيزُ كَيْفَ أَشَارَ اللهُ تَعَالَى إِلى هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - اے عزیز! دیکھ اللہ تعالیٰ نے اِمْتِنَاعِ الْمَوْتِ الثَّانِي بَعْدَ الْمَوْتَةِ الْأُولى اس حکایتاً بیان میں کس طرح پہلی موت کے بعد دوسری وَبَشَرَنَا بِالْخُلُودِ فِي الْعَالَمِ الثَّانِي بَعْدَ موت نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہمیں پہلی الْمَوْتِ فَلَا تَكُن مِنَ الْمُنْكِرِينَ وَأَنْتَ موت کے بعد عالم ثانی میں ہمیشہ رہنے کی بشارت دی تَعْلَمُ أَنَّ الْهَمْزَةَ فِي جُمْلَةِ أَفَمَا نَحْنُ ہے۔پس تو انکار کرنے والوں میں سے نہ ہن۔نیز تو بيْتِينَ لِلاِسْتِفْهَامِ التَّقْرِيرِى وَفِيْهَا جانتا ہے کہ آفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِین کے جملہ میں ہمزہ