تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 416

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الجمعة انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرما یا يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ یعنی جیسے آسمان پر ہر یک چیز خدا کی تسبیح و تقدیس کر رہی ہے ویسے زمین پر بھی ہر ایک چیز اُس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔پس کیا زمین پر خدا کی تحمید و تقدیس نہیں ہوتی ایسا کلمہ ایک کامل عارف کے منہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز تو شریعت کے احکام کی اطاعت کر رہی ہے اور کوئی چیز قضا و قدر کے احکام کے تابع ہے اور کوئی دونوں کی اطاعت میں کمر بستہ ہے کیا بادل کیا ہوا کیا آگ کیا زمین سب خدا کی اطاعت اور تقدیس میں محو ہیں اگر کوئی انسان انہی شریعت کے احکام کا سرکش ہے تو الہی قضا و قدر کے حکم کا تابع ہے۔ان دونوں حکومتوں سے باہر کوئی نہیں کسی نہ کسی آسمانی حکومت کا جواہر ایک کی گردن پر ہے۔ہاں البتہ انسانی دلوں کی صلاح اور فساد کے لحاظ سے غفلت اور ذکر الہی نوبت به نوبت زمین پر اپنا غلبہ کرتے ہیں مگر بغیر خدا کی حکمت اور مصلحت کے یہ مد و جزر خود بخود نہیں خدا نے چاہا کہ زمین میں ایسا ہو سو ہو گیا۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۳،۳۲) هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِينَ ق مِنْهُم لَنَا يَلْحَقُوا بهم وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔۔وہ خدا ہے جس نے ان پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ان پر وہ اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگر چہ وہ لوگ اس سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے۔(براہین احمدیہ چهار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۳) وہ خداوہ کریم ورحیم ہے جس نے امیوں میں انہیں میں سے ایک ایسا کامل رسول بھیجا ہے کہ جو باوجود امی ہونے کے خدا کی آیات ان پر پڑھتا ہے۔اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے اگر چہ وہ لوگ اس نبی کے ظہور سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کے گروہ میں سے اور ملکوں کے لوگ بھی ہیں جن کا اسلام میں داخل ہونا ابتدا سے قرار پا چکا ہے اور ابھی وہ مسلمانوں سے نہیں ملے۔اور خدا غالب اور حکیم ہے جس کا فعل حکمت سے خالی نہیں۔یعنی جب وہ وقت آ پہنچے گا کہ جو خدا نے اپنی حکمت کاملہ کے لحاظ