تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 415

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ سورة الجمعة اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجُمُعَةِ بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُلُوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ 0 قرآن کہتا ہے کہ یہ نہیں کہ زمین تقدیس سے خالی ہے بلکہ زمین پر بھی خدا کی تقدیس ہو رہی ہے نہ صرف آسمان پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ( بنی اسرائیل : ۴۵ ) - يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّبُوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ یعنی ذرہ ذرہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور تقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ ان میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے پہاڑ اُس کے ذکر میں مشغول ہیں دریا اُس کے ذکر میں مشغول ہیں درخت اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور بہت سے راستباز اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدر الہی فروتنی کرا رہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اُس کی اطاعت کر رہی ہے ایک پتہ بھی بجز اس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفا دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کی تذلیل اور عبودیت سے خدا کے آستانہ پر گری ہوئی ہے اور اُس کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز ان کا اور