تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 417

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ سورة الجمعة سے دوسرے ملکوں کے مسلمان ہونے کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔تب وہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوں گے۔بر این احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۲ حاشیہ نمبر ۱۱) اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانی علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے۔یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دُور جا پڑے تھے۔تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول اُمّی بھیجا اور اُس رسول نے اُن کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے اُن کو ملو کیا یعنی نشانوں اور منجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے ٹور سے اُن کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دُور ہوں گے تب خدا اُن کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ اُن کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لوكان الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُرَيَّا لَنَالَهُ رَجَلٌ مِنْ فَارِسَ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اُٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اُس کو واپس لائے گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہوگا اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو سیح موعود کا زمانہ ہے۔اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ صلیبی حملہ جس کے توڑنے کے لئے مسیح موعود کو آنا چاہیئے وہ حملہ ایمان پر ہی ہے اور یہ تمام آثار صلیبی حملہ کے زمانہ کے لئے بیان کئے گئے ہیں اور لکھا ہے کہ اس حملہ کا لوگوں کے ایمان پر بہت برا اثر ہو گا۔وہی حملہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجالی حملہ کہتے ہیں۔آثار میں ہے کہ اُس دنبال کے حملہ کے وقت بہت سے نادان خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ دیں گے اور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید ایمان ہوگا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث لَوْ كَانَ الایمان سے جو شخص فارسی الاصل کی نسبت ہے یہ ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے گا۔پس جس حالت میں مسیح موعود اور فارسی الاصل کا زمانہ بھی ایک ہی ہے اور کام بھی ایک ہی ہے یعنی ایمان کو دوبارہ قائم کرنا اس لئے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہی فارسی الاصل