تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 357
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة الواقعة ہے کہ قرآن کے سمجھنے کے لئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۸) علم قرآن سے بلا شبہ باخدا اور راستباز ہونا بھی ثابت ہے کیونکہ بموجب آیت لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ صرف پاک باطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۷۴) یہ سارا صحیفہ قدرت کے مضبوط صندوق میں محفوظ ہے۔کیا مطلب کہ یہ قرآن کریم ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے۔اس کا وجود کاغذوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے جس کو صحیفہ فطرت کہتے ہیں یعنی قرآن کی ساری تعلیم کی شہادت قانونِ قدرت کے ذرہ ذرہ کی زبان سے ادا ہوتی ہے اس کی تعلیم اور اس کی برکات کتھا کہانی نہیں جومٹ جائیں۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۷۲) قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار اس میں موجود ہیں لیکن ان کے حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۵) في كتب مكنون یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۴) یہ کتاب مکنون زمین اور آسمان کی چھپی ہوئی کتاب ہے جس کے پڑھنے پر ہر شخص قادر نہیں ہوسکتا اور قرآن کریم اسی کتاب کا آئینہ ہے اور قرآن کریم نے وہی خدا دکھایا ہے جس پر آسمان وزمین شہادت دیتے ہیں۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۲۰ تا ۲۷ /اگست ۱۸۹۸ ء صفحه ۹) معارف قرآن اس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں کھل سکتے جس کی تطہیر ہو چکی ہولَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔احکام جلد ۲ نمبر ۲۹،۲۸ مورخه ۲۰ تا ۲۷ ستمبر ۱۸۹۸ صفحه ۴) قرآنی حقائق اور معارف کے بیان کرنے کے لئے قلب کو مناسبت اور کشش اور تعلق حق اور صدق سے ہو جاتا ہے اور پھر یہاں تک اس میں ترقی اور کمال ہوتا ہے کہ وہ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کا مصداق ہو جاتا ہے۔اس کی نگاہ جب پڑتی ہے ، صدق پر ہی پڑتی ہے۔اس کو ایک خاص قوت اور امتیازی طاقت دی جاتی ہے۔جس سے وہ حق و باطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے۔یہاں تک کہ اس کے دل میں ایک قوت آجاتی