تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 358
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۸ سورة الواقعة ہے۔جو ایسی تیز حس ہوتی ہے کہ اسے دور سے ہی باطل کی بو آجاتی ہے۔یہی وہ سر ہے جو لا يمشةً إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ میں رکھا گیا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۵) صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے اس لئے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ فرمایا گیا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۱) جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے قانون قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے گویا جو قرآن میں ہے وہی کتاب مکنون میں ہے۔اس کا راز انبیاء علیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آسکتا اور یہی وہ ستر ہے جولا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ میں رکھا گیا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۷ ) دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لیے تقومی طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو ، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے چوڑھے چہار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے ان کی تحصیل کے لیے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قد را طیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۳) دنیوی عقل کے لئے تقویٰ کی ضرورت نہیں ہے مگر دین کے لئے ضرورت ہے اس لئے یہ لوگ دین کی باتوں کو بھی نہیں سمجھتے۔خدا تعالیٰ اسی کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی اندر گھسنا تو در کنار مس کرنا بھی مشکل ہے جب تک انسان مطہر یعنی منتقی نہ ہوئے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) سچی بات یہی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گا۔اور قلم، دعا، تو جہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا۔اور افسوس ہے لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لیے کہ جس قدر توجہ دنیا کی طرف ہے، دین کی طرف نہیں۔دنیا کی آلودگیوں اور نا پاکیوں میں مبتلا ہوکر یہ امید کیوں کر کر سکتے ہیں کہ ان پر قرآن کریم کے معارف کھلیں وہاں تو صاف لکھا ہے لَا يَمَشةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۶ مورخه ۱۷/اکتوبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵)