تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 337

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ سورة الرحمن الْإِدْرَاكِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلى أَهْلِ دانش اور وہم کے لئے تسلی کا راہ ہے اور اور اک کی تمام الأفلاكِ وَإِنَّهُ أَحَاطَ دَوَائِرَ فَهُم قسموں سے وہ برابر ہے۔گو کتنے قسم زمین سے آسمان تک الْإِنْسَانِ مَعَ الْتِزامِ الْحَقِّ وَإِقَامَةِ ہوں اور وہ انسانی فہم کے تمام دائرہ پر محیط ہے اور وہ حق اور الْبُرْهَانِ وَإِنَّهُ نُورٌ تَام مُبِينٌ وَ اَماً برہان کا التزام اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ پورا پورا انور اور کھلی اللغة العربية تحسباتها انها تخری کھلی روشنی ہے۔رہی عربی زبان سو اس کے چلنے کا طریق الْعَرَبِيَّةُ فَحُسْبَانُهَا أَنَّهَا تَجْرِى راور تَحْتَ مَقَاصِدِ الْقُرْآنِ وَتَتِةُ مُفَرَدَاتِہ یہ ہے کہ قرآن کے مقاصد کے نیچے چلتی ہے اور اپنے جَمِيعُ دَوَائِرٍ دِينِ الرَّحْمَانِ وَ تَخدِمُ مفردات کے ساتھ دین کے تمام دائروں کو پورا کرتی ہے سَائِرَ انْوَاعِ التَّعْلِيمِ وَالتَّلْفِينِ۔وَإِنّها اور تعلیم اور تلقین کے تمام قسموں کی خدمت کرتی ہے اور یہ مِنْ أَعْظَمِ تَجَالِي الْقُدْرَةِ الرَّبَّانِيَّةِ بولی قدرت ربانی کی عظیم الشان جلوہ گاہوں میں سے ہے اور وَخَضَهَا اللهُ بِنِظَامٍ فطري من جميع خدا تعالیٰ نے اس کو تمام زبانوں میں سے نظام فطری کے الْأَلْسِنَةِ وَ اوَدَعَهَا مَحاسَن الصَّنَعَةِ ساتھ خاص کیا ہے اور اس میں طرح طرح کی صنعت الہیہ الْإِلَهِيَّةِ فَأَحَاطَتْ جَميعَ لطائف کے محاسن رکھے ہیں پس یہ بولی بیان کے تمام لطائف پر الْبَيَانِ وَأَبْدَى الْجَمَالَ كَأَحْسَنِ اَشْيَاء محیط ہے اور اپنے جمال کو ایسے طور سے ظاہر کیا ہے جو ان صَدرَتْ مِنَ الرَّحْمَانِ وَ هَذَا هُوَ تمام چیزوں سے بہتر ہے جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہیں الدَّلِيلُ عَلى أَنها لَيْسَتْ مِن الْإِنْسَانِ۔اور یہی دلیل اس بات پر ہے کہ یہ بولی انسان کی طرف سے وَفِيهَا صِبْغَةٌ حِكْميَّةٌ مِنَ اللهِ الْمَنانِ نہیں اور اس میں خدا تعالی کی طرف سے ایک پر حکمت وَفِيْهَا حُسْنُ وَبَهَاءُ وَ انْوَاعُ اللَّمُعَانِ وَ رنگ ہے اور حسن اور خوبصورتی اور قسم قسم کی چمک ہے اور فِيهَا عَجَائِبُ صانع عَظِيمٍ الشَّانِ صنعت الہی کے عظیم الشان عجائبات ہیں۔اس کا منہ کئی تَلْمَعُ وَجْهَهَا بَيْنَ صَفُوفِ السِنَةِ شَفى زبانوں کی صفوں کے اندر چمک رہا ہے گویا یہ ایک چمکتا ہوا كَأَتَها كَوْكَبٌ دُرِى فِي الدُّجى وَ اِنَّهَا موتی اندھیرے میں ہے اور یہ اس پاکیزہ باغ کی طرح كَرَوْضَةٍ طَيِّبَةٍ عَلى نَهْرٍ جَارٍ مُشْرَةٍ ہے جو نہر جاری پر ہو جو پھلوں سے لدا ہوا ہو مگر دوسری بأنواع ثمارٍ وَأَمَّا الْأَلْسُنُ الأخرى زبانوں کا یہ حال ہے کہ احمقوں کے تصرف کے غبار نے فَقَدْ غَيْرَ وَجْهُهَا فَتَرُ تَصَرُّفِ النُّونى بہت سا حصہ ان کا متغیر کر دیا ہے اور اپنی پہلی صورت پر