تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 338
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الرحمن وَمَا بَقِيتُ عَلى صُورَتِها الأولى فهی باقی نہیں رہیں پس وہ ان درختوں کی طرح ہیں جو اپنی كَأَشْجَارٍ أَجْتُنَّتْ مِن مَغَارِسِهَا وَبَعُدَتْ جگہ سے اکھیڑے گئے اور اپنے نگہبان کی آنکھوں سے مِنْ نَوَاظِرٍ حَارِسِهَا وَ نُبِنَتْ فِي مَوْمَاةٍ دور کئے گئے اور ایسے بیابان میں ڈالے گئے جہاں پانی وَقَفْرٍ وَفَلَاةٍ فَاصْفَرَّتْ أَوْرَاقُهَا وَيَبِسَتْ نہیں اور ایسے جنگل میں جہاں کوئی درخت سبز نہیں پس سَاقُهَا وَسَقَطَتْ الْمارُهَا وَذَهَبَتْ ان کے پتے زرد ہو گئے اور ان کے پھل گر گئے اور ان نَضْرَتهَا وَالخَضِرَارُهَا وَتَرَی وَجْهَهَا کی تازگی اور سبزی جاتی رہی اور تو دیکھتا ہے کہ ان کا چہرہ جذامیوں کی طرح ہو گیا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) كَالْمَجْذُومِينَ (منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸۸ تا ۱۹۳) وَقَد سَمِعْتَ أَنَّ اللهَ جَعَلَ لَفْظَ الْبَيَانِ اور تو سن چکا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صِفَةً لِلْعَرَبِيَّةِ فِي الْقُرْآنِ وَ وَصَفَ بلاغت فصاحت کو عربی کی صفت ٹھہرایا ہے اور عربی کو الْعَرَبِيَّةَ بِعَرَبِي مُبِينٍ فَهْذِهِ إِشَارَةٌ إلى عربی مبین کے لفظ سے موسوم کیا ہے۔پس یہ بیان اس فَصَاحَتِ هَذَا اللِّسَانِ وَ عُلُوّ مُقَامِهَا عِنْدَ زبان کی فصاحت کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس کے الرَّحْمَنِ وَأَمَّا الأَلْسِنَةُ الأخرى فما مرتبہ عالیہ کی طرف ایما ہے مگر خدا تعالیٰ نے دوسری وَصَفَهَا بِهَذَا الشَّانِ بَلْ مَا عَزَاهَا إلى زبانوں کو اس وصف سے موصوف نہیں فرمایا بلکہ ان کو نَفْسِهِ لِتَعْلِيمِ الْإِنْسَانِ وَسَمًا غَيْرَ اپنی ذات کی طرف منسوب بھی نہیں فرمایا اور ان کا نام الْعَرَبِيَّةِ الجَبِيا فَفَكِّرُ إِن كُنتَ زَكيا - انجمی رکھا پس اگر تو ز کی ہے تو اس بات کو سوچ لے اور مبارک ہیں وہ جو اس بات کو سوچتے ہیں۔وَطُوبَى لِلْمُتَفَكِّرِيْنَ (منن الرحمان، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۰۸) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) فباي الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ (اس سوال کے جواب میں کہ سورۃ رحمان میں اعادہ کیوں ہوا ہے؟ فرمایا۔) اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہو جاتا ہے۔اس لیے فرمایا وَ لَقَد يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِكرِ ( القمر : ۲۳) یعنی بے شک