تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 336
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة الرحمن 66 الْحَتَانِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ فَانْظُرْ یعنی خدائے بزرگ اور مہربان کا یہ قول کہ الشَّمْسُ إلى مَا قَالَ الرَّحْمَانُ وَفَكِّرُ كَذِى الْعَقْلِ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ پس اس مضمون کو سوچ جو خدا تعالیٰ وَالْإِمْعَانِ وَتَذَكَّرُ كَالْمُسْتَرْشِدِينَ فَإِنَّ نے فرمایا اور عقلمندوں اور سوچنے والوں کی طرح غور کر هذِهِ الْآيَةَ تُؤَيَّدُ أَيَةً أَوْلى وَيُفَشِرُ مَعْنَاهَا اور رشد کے طالبوں کی طرح یاد کر کیونکہ یہ آیت پہلی بِتَفْسِيرٍ أجلى كَمَا لَا يَخْفی عَلَی آیت کی تائید کرتی ہے اور ایک کھلی کھلی تفسیر کے ساتھ الْمُفَكِّرِيْنَ وَ بَيَانُه أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اس کے معنی بیان کرتی ہے جیسا کہ سوچنے والوں پر يَجْرِيَانِ مَتَعَاقِبَينِ وَيَحْمِلَانِ نُورًا وَاحِدًا پوشیدہ نہیں اور بیان اس کا یہ ہے کہ آفتاب اور چاند في اللونين۔وَكَذَلِكَ الْعَرَبِيَّةُ وَالْقُرْآنُ ایک دوسرے کے متعاقب چلتے ہیں اور ایک ہی نور کو دو فَإِنَّهُمَا تَعَاقَبَا وَاتَّحَدا الْبُرُوقَ وَاللَّمْعَانِ رنگوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔اور یہی مثال عربی اور أمَّا الْقُرْآنُ فَهُوَ كَالشَّارِقِ الْمُبِیرِ قرآن کی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد چل رہے وَالْعَرَبِيَّةُ كَالْبَدْرِ الْمُسْتَدِيرِ وَمَعْذَلِكَ ہیں اور روشنی اور چمک میں اتحادر رکھتے ہیں سو قرآن تو تَرَى الْعَرَبِيَّةَ أَسْرَعُ فِي الْمَسِيرِ وَاجْرُى مہر تاباں کی طرح ہے اور عربی ماہتاب کی طرح اور عَلَى لِسَانِ الصّالح وَالطَّرِيرِ وَ مَا كَانَتْ باوصف اس کے عربی سیر میں تیز رو ہے اور نیک اور بد کی شمْسُ الْقُرْآنِ آن تُدْرِكَ هَذَا الْقَمَرَ زبان پر زیادہ جاری ہو گئی ہے اور قرآن کا آفتاب اس وكذلك قَدَّر الله هذا الأمر وانما کی حرکت کو نہیں پہنچا اور خدا تعالیٰ نے اس امر کو اسی بُحُسْبَانٍ وَيَجْرِيَانِ كَمَا أَجْرِيَا وَلَا يَبْغِيَانَ۔طرح مقدر کیا اور وہ دونوں ایک حساب پر چل رہے بِحِسَابِ مُقَدَّرٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ فَتَرَى آن ہیں اور جیسا کہ چلا یا گیا ویسا ہی چل رہے ہیں اور اپنے الْقُرْآنَ يَجْرِى بِرِعَايَةِ أَنْوَاعِ الْاِسْتِعْدَادِ اپنے اندازہ سے کم و بیش نہیں ہوتے۔سو قرآن تو وَ يَكْشِفُ عَلَى الطَّالِب اَسْرَارَ الْمَعَادِ استعدادوں کے لحاظ پر چلتا ہے اور طالب پر معاد کے وَيُرَى الْحُكَمَاء كَمَا يُرَى السُّفَهَاء وَيُعَلِّمُ بھید کھولتا ہے اور حکیموں کی پرورش ایسا کرتا ہے جیسا کہ الْعُقَلَاء كَمَا يُعَلِّمُ الْجُهَلَاءَ وَفِيهِ بَلَاغُ بے وقوفوں کی پرورش کرتا ہے اور عقلمندوں کو اسی طرح لِكُلِّ مَرْتَبَةِ الْفَهْمِ۔وَتَسْلِيَةٌ لِكُلِّ ارباب سکھلاتا ہے جیسا کہ جاہلوں کو اور اس میں ہر ایک سمجھ أَرْبَابِ النَّهَاءِ وَالْوَهُم وَسَاوَى بجميع انواع کے مرتبہ کے لئے طریق تبلیغ موجود ہے اور ہر یک