تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 3
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له سورة يس إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَاثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ الله) ہم قرآن کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہے ہیں ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۵) قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ اَبِنْ ذُكِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ ) قِيلَ طَائِرُ كُمْ مَّعَكُمْ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اگر تم کو یاد بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ ۔ الهدى والتبصرة لمن يرى ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۰۳) دلایا جائے بلکہ تم حد سے نکلنے والے لوگ ہو۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يُلَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ * بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ ۔ مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے کیونکہ برطبق آیت قبیل ادْخُلِ الْجَنَّةَ وَادْخُلِي جَنَّتِی وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں ۔ ( توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴، ۵۵ ) مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱) اس قسم کی آیتیں قرآن شریف میں بکثرت ہیں کہ بجر دموت کے ہر ایک انسان اپنے اعمال کی جزا د یکھ لیتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ایک بہشتی کے بارے میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ یعنی اس کو کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۸) وَ إِنَّا لَا نَقُولُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ بَعْدَ ہم یہ نہیں کہتے کہ اہلِ جنت دنیا سے دار الآخرت کی انْتِقَالِهِمْ إِلَى دَارِ الْآخِرَةِ يُحْبَسُونَ فِي طرف انتقال کے بعد قیامت تک کے لئے جنت سے ایک