تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 4
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة يس مَكَانٍ بَعِيدٍ مِنَ الْجَنَّةِ إلى يوم دور کی جگہ میں روک لئے جاتے ہیں اور قیامت سے قبل يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَبْلَ سوائے شہداء کے کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا یہ بات الْقِيَامَةِ إِلَّا الشُّهَدَاءُ ، كَلَّا بَلِ ہرگز درست نہیں بلکہ ہمارے عقیدہ کے مطابق انبیاء سب الْأَنْبِيَاء عِنْدَنَا أَوَّلُ الدَّاخِلِين سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے ہیں۔کیا وہ مومن جو أَيْظُنُ الْمُؤْمِنُ الَّذِى يُحِبُّ اللہ اللہ تعالی اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یہ گمان کر سکتا ہے وَرَسُولَهُ أَنَّ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ کہ نبی اور صدیق یوم بعث تک جنت سے دور رکھے جائیں يُبْعَدُونَ عَنِ الْجَنَّةِ إِلى يَوْمِ الْبَعْثِ گے اور اس کی راحت بخش ہوا کو نہیں پائیں گے لیکن شہداء وَلَا يَجِدُونَ مِنْهَا رَائحةٌ، وَأَمَّا الشُّهَدَاء بلا توقف جنت میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہتے فَيَدْخُلُونَهَا مِنْ غَيْرِ مُكْتَ خَالِدِينَ چلے جائیں گے؟ فَاعْلَمُ يَا أَخِي أَنَّ هَذِهِ الْعَقِيدَة اے میرے بھائی ! جان لے کہ یہ عقید و ردی اور فاسد ہے رَدِيقَةٌ فَاسِدَةً وَمَمْلُوْءَةُ مِن سُوءٍ اور بے ادبی سے پر ہے۔کیا تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم الْأَدَبِ أَمَا قَرَأْتَ مَا قَالَ رَسُولُ کی یہ حدیث نہیں پڑھی کہ جنت میری قبر کے نیچے ہے۔نیز اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَنَّةَ آپ نے فرمایا کہ مومن کی قبر جنت کے باغیچوں میں سے تَحْتَ قَبْرِى وَقَالَ إِنَّ قَبْرَ الْمُؤْمِن ایک باغیچہ ہے اور خدائے عزوجل نے قرآن کریم میں فرمایا رَوْضَةٌ مِنْ رَوْضَاتِ الْجَنَّةِ وَقَالَ ب يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ۔۔۔۔الخ يعنى اے نفس مطمعنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ اس حال میں کہ تو اسے پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی۔پھر تیرا رب مجھے کہتا ہے کہ آمیرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور آمیری جنت میں بھی داخل ہو جا۔اسی طرح ایک اور جگہ قرآن کریم عَزَّ وَ جَلَّ فِي كِتَابِهِ الْمُحْكَمِ يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِيدِي وَادْخُلِي لے جَنَّتِي وَقَالَ فِي مَقَامٍ أَخَرَ قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۴۹) میں فرماتا ہے اسے کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو جا۔(ترجمه از مرتب) ہر ایک شخص جو طیب اور طاہر مومنوں میں سے مرے وہ بھی بلا توقف بہشت میں داخل ہو جائے اور یہی بات حق ہے جیسا کہ قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی اس کی تشریح ہے منجملہ ان کے ایک وہ مقام الفجر : ۲۸ تا ۳۱