تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 2
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة يس حدیثوں کے شغل کو ترک کر دیں۔بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ انتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔الحکم جلد ۴ نمبر ۷ ۳ مورخه ۱۷/اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحه ۵) انسانی فطرت کا پورا اور کامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۸ صفحہ ۷ ) میں مشہور ہے۔إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ تو خدا کا مرسل ہے۔لِتُنذِرَ قَوْمًا مَا انْذِرَا بَاؤُهُمْ فَهُمْ غُفِلُونَ ) تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے بے خبر گزر گئے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۰) (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۱ ) تجھ کو ہم نے اس لئے بھیجا ہے۔۔۔۔۔تا تو لوگوں کو کہ غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں حق کی طرف توجہ دلا دے اور ان کو خبر دار کرے۔برائن احمد یہ چہار خصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۱) تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا سووہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔(برائین احمد یه چهار ص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۶۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔تا تو ان کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔(اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۵۶،۳۵۵) ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۹ حاشیه ) تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۳)